۱؎ یہاں وصیت سے مراد اصطلاحی وصیت نہیں بلکہ تاکیدی حکم مراد ہے اور حکم کس کا احکم الحاکمین کا نہ کہ حضرت جبریل کا،کہ حضرت جبریل حضور کے حاکم نہیں حضور کے خادم ہیں رب کی طرف سے فرمان رساں فیضان رساں ہیں۔یوصینی سے مراد ہیں حضور کی امت کے لیے حضور کو حکم پہنچاتے رہے کہ آپ اپنی امت کو یہ حکم پہنچادو۔
۲؎ یعنی مجھے یہ خیال ہوا کہ اللہ تعالٰی مسلمانوں کو پڑوسی کی مالی میراث میں شریک کردیں گے کہ قرابت کی طرح یہ وصیت بھی میراث پانے کا ذریعہ ہوجاوے گی حضور کی میراث مرادنہیں کہ حضرات انبیاءکرام کی مالی میراث کسی کو نہیں ملتی۔