Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
790 - 975
حدیث نمبر 790
روایت ہے حضرت عیاض ابن حمار سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ نے جنتی لوگ تین ہیں ۱؎  وہ حاکم جو عدل والا صدقہ والا توفیق والا۲؎  اور وہ شخص جو رحم  اور نرم دل ہو ہر قرابت والے پر۳؎ اور وہ مسلمان جو پاک دامن سوال کرنے سے بچنے والا عیال دار ہو۴؎ آگ والے پانچ ہیں وہ کمزور جس کی خود اپنی کوئی رائے نہ ۵؎ جو کہ تم میں رہیں تمہارے تابع ہو کہ نہ گھر بار چاہتے ہیں نہ مال ۶؎ اور وہ خیانت والا جس کی ہوس ڈھکی چھپی نہیں رہتی اگرچہ معمولی چیز ہو مگر خیانت کرلیتا ہو ۷؎ اور وہ شخص جو نہیں صبح کرتا نہیں شام کرتا مگر وہ تم کو دھوکہ دیتا رہتا ہے تمہارے گھر بار اور تمہارے مال میں ۸؎ اور حضور نے کنجوسی اور جھوٹ کا بھی ذکر فرمایا ۹؎ اور بدخلق اور فحش گو ۱۰؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی میری امت میں تین قسم کے لوگ یقینًا جنتی ہیں۔

۲؎  یعنی جسے اللہ حکومت بھی دے تو وہ لوگوں کے ساتھ بھلائی اور سلوک کرے اسے خیر کرنے خیر کرانے کی توفیق ملے کہ حاکم درست ہوجانے سے رعایا خود درست ہوجاتی ہے۔

۳؎  یعنی عوام مسلمانوں پر عمومًا اور اپنے عزیز قرابت داروں پر خصوصًا مہربان ہو۔

۴؎  یعنی وہ مسلمان جو باوجود عیالدار ہونے کے کسی سے بھیک نہ مانگے گناہ کے قریب نہ جاوے۔

۵؎  یعنی اس میں اتنی عقل نہ ہو جو اسے برائیوں سے بچائے کبھی آخرت کے نفع نقصان کو سوچتا ہی نہ ہو جانوروں کی طرح صرف کھانے عیش کرنے کی فکر میں لگا رہے۔

۶؎  یعنی حلال بیوی رکھتے نہیں حلال روزی کماتے نہیں محنت سے جی چراتے ہیں،غیر عورتوں پر نظر حرام رکھتے ہیں،غیروں کا مال ناجائز طور پر کھانے کے درپے رہتے ہیں یہ لوگ نرے دوزخی ہیں۔

۷؎  یعنی اسے خیانت کرنے کی عادت ہوگئی معمولی چیز حقیر سی امانت میں خیانت کرنے سے باز نہیں رہتا یعنی وہ گنہگار بھی ہو ذلیل طبیعت والا بھی یہ بھی دوزخی ہے یہ عادات خالص دوزخیوں کے ہیں۔

۸؎  صبح شام سے مراد ہمیشہ ہے یعنی وہ دھوکہ دینے کا عادی ہوچکا ہو تم سے جب بھی کلام یا کوئی معاملہ کرے دھوکہ ہی دے یہ بھی دوزخی ہے۔

۹؎  چونکہ راوی کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے وہ الفاظ طیبہ یاد نہ رہے جو حضور نے بخل اور جھوٹ کے متعلق فرمائے اس لیے راوی نے اس طرح بیان کیا،اگر اسے الفاظ طیبہ یاد ہوتے تو باقاعدہ بطریق روایت ارشاد کرتے۔

۱۰؎  شنظیر فحاش بخل وکذب کا معطوف ہے تو نصبی حالت میں ہے یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے شنظیر اور فحاش کا بھی ذکر فرمایا کہ وہ بھی دوزخی ہیں۔شنظیر بروزن خنزیر بمعنی بدخلق سخت طبیعت اور ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں مبتداء ہوں اوران کی خبر من اھل النار پوشیدہ ہو تو یہ دونوں مرفوع ہوں گے،مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں والفحاش ہے یعنی فحاش معطوف ہے الشنظیر پر تب تو معنی بالکل ظاہر ہیں۔
Flag Counter