Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
791 - 975
حدیث نمبر 791
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ کوئی بندہ مؤمن نہیں ہوتا حتی کہ اپنے بھائی کے لیے وہ ہی پسندکرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ فرمان عالی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے جامع کلمات سے ہے ان چند لفظوں میں دونوں جہان کی خوبیاں جمع ہیں یعنی کوئی شخص مؤمن کامل اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک کہ اپنے بھائی مسلمان کے لیے دینی و دنیاوی وہ چیز نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتا ہے اسی کا ترجمہ ہے کہ آنچہ بر خود نہ پسندی بہ دیگراں پسند۔خیال رہے کہ یہاں خیر مراد ہے ہر مسلمان کے لیے دنیاو آخرت کی خیر چاہو جو اپنے لیے چاہتے ہو۔اس خیر کا ظہور مختلف طریقوں سے ہوتاہے کسی کے لیے دولت مندی خیر ہے،کسی کے لیے فقیری خیر،کسی کے لیے خلوت خیر ہے،کسی کے لیے جلوت خیر لہذا اگر خلوت نشین مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے جلوت چاہے جسے جلوت بہتر ہو تو اس فرمان کے خلاف نہیں۔تمام مسلمانوں میں پاور ایک ہی ہے مگر پاور کے اثرات مختلف ہیں جیسے پاور ہیٹر میں پہنچے تو گرمی دیتا ہے فریج میں پہنچے تو ٹھنڈک۔(مرقات)
Flag Counter