| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے حقیر جانے ۱؎ تقویٰ یہاں ہے اور اپنے سینہ کی طرف اشارہ فرماتے تھے تین بار۲؎ انسان کے لیے یہ شر کافی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے مسلمان پر مسلمان کی ہر چیز حرام ہے اس کاخون اس کا مال اس کی آبرو ۳؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یعنی مسلمان کو نہ تو دل میں حقیر جانو نہ اسے حقارت کے الفاظ سے پکارو یا برے لقب سے یاد کرو نہ اس کا مذاق بناؤ آج ہم میں یہ عیب بہت ہے۔پیشوں،نسبوں،یا غربت و افلاس کی وجہ سے مسلمان بھائی کو حقیر جانتے ہیں حتی کہ صوبجاتی تعصب ہم میں بہت ہوگیا کہ وہ پنجابی ہے،وہ بنگالی، وہ سندھی،وہ سرحدی،اسلام نے یہ سارے فرق مٹادیئے۔شہد کی مکھی مختلف پھولوں کے رس چوس لیتی ہے تو ان کا نام شہد ہوجاتا ہے، مختلف لکڑیوں کو آگ جلادے تو اس کا نام راکھ ہوجاتا ہے،آم،جامن،ببول کا فرق مٹ جاتا ہے یوں ہی جب حضور کا دامن پکڑ لیا تو سب مسلمان ایک ہوگئے حبشی ہو یا رومی۔مولانا جامی فرماتے ہیں شعر بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامی کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست ۲؎ یعنی اسلام میں عزت تقویٰ و پرہیزگاری سے ہے اور تقویٰ کا اصلی ٹھکانہ دل ہے۔تمہیں کیا خبر کہ جس مسکین مسلمان کو تم حقیر سمجھتے ہو اس کا دل تقویٰ کی شمع سے روشن ہو اور وہ اللہ کا پیارا ہو تم سے اچھا ہو شعر۔ خاکساران جہاں رابحقارت منگر توچہ دانی کہ دریں راہ سوارے باشد صوفیاء کرام اس جملہ کے معنی یہ کرتے ہیں کہ حضور نے اپنے سینہ کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ تقویٰ و پرہیزگاری یہاں ہے یعنی تقویٰ کی کان پرہیزگاری کا مرکز میرا سینہ ہے،میرے سینہ سے تمام اولیاء و علماء کے دلوں کی طرف تقویٰ کے دریا بہتے ہیں ان سینوں سے عوام کے سینوں کی طرف تقویٰ کی نہریں نکلیں۔ (مرقات)حضور کا سینہ کشف غیوب کا آئینہ ہے کونین میں حضور کی عطائیں بہتی ہیں۔(مرقات) ۳؎ یعنی کوئی مسلمان کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی اجازت نہ لے،کسی کی آبروریزی نہ کرے،کسی مسلمان کو ناحق اور ظلمًا قتل نہ کرے کہ یہ سب سخت جرم ہیں۔