| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ۱؎ نہ تو اس پر ظلم کرے نہ اسے رسوا کرے ۲؎ اور جو اپنے بھائی کی حاجت روائی میں رہے گا اللہ اس کی حاجت میں رہے گا اور جو مسلمان سے کوئی تکلیف دور کرے گا اللہ اس سے قیامت کے دن کی تکالیف دور کرے گا۳؎ اور جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا قیامت کے دن اللہ اس کی پردہ پوشی کرے گا۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی مسلمان مسلمان کا دینی و اسلامی بھائی ہے یا مسلمان مسلمان کے لیے سگے بھائی کیطرح ہے بلکہ اس سے بھی اہم کہ نسبی بھائی کو ماں باپ نے بھائی بنایا ہے اور مسلمان کو حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے بھائی بنایا،حضور سے رشتہ غلامی قوی ہے ماں باپ سے رشتہ نسبی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ حضور مسلمانوں کے بھائی نہیں حضور تو مثل والد کے ہیں اس لیے حضور کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں بھاوج نہیں،یہ بھی معلوم ہوا کہ مؤمن و مسلم ہم معنی ہیں کہ قرآن کریم نے مؤمنوں کو بھائی قرار دیا"اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ اِخْوَۃٌ"اور حضور نے یہاں مسلمون کو۔(ازمرقات)خیال رہے کہ یہاں بھائی ہونا رحمت و شفقت کے لحاظ سے ہے نہ کہ احکام کے اعتبار سے۔ ۲؎ یسلم بنا ہے اسلام سے جس کا مادہ سلم بمعنی سلامتی ہے ہمزہ سلب کا تو معنی ہوئے سلامت نہ رکھنا یعنی اسے ہلاک کردینا یا مدد کی ضرورت پر اسے بے یار و مددگار چھوڑ دینا۔ ۳؎ سبحان اللہ! کیسا پیارا وعدہ ہے مسلمان بھائی کی تم مددکرو اللہ تمہاری مدد کرے گا،مسلمان کی حاجت روائی تم کرو اللہ تمہاری حاجت روائی کرے گا۔معلوم ہوا کہ بندہ بندہ کی حاجت روائی کر سکتا ہے یہ شرک نہیں بندہ بندہ کا حاجت روا مشکل کشا ہے۔ ۴؎ یعنی اگر کوئی حیا دار آدمی ناشائستہ حرکت خفیہ کر بیٹھے پھر پچھتائے تو تم اسے خفیہ سمجھا دو کہ اس کی اصلاح ہوجائے اسے بدنام نہ کرو اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ تعالٰی قیامت میں تمہارے گناہوں کا حساب خفیہ ہی لے لے گاتمہیں رسوانہ کرے گا،ہاں جو کسی کی ایذا کی خفیہ تدبیریں کر رہا ہو یا خفیہ حرکتوں کا عادی ہوچکا ہو اس کا اظہار ضرورکردو تاکہ وہ شخص ایذا سے بچ جاوے یا یہ توبہ کرے یہ قیدیں ضرور خیال میں رہیں۔غرضکہ صرف بدنامی سے کسی کو بچانا اچھا ہے مگر اس کے خفیہ ظلم سے دوسرے کو بچانا یا اس کی اصلاح کرنا بھی اچھا ہے یہ فرق خیال میں رہے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ جو مسلمان کی ایک عیب پوشی کرے رب تعالی اس کی سات سو عیب پوشیاں کرےگا لہذا کربۃ کی تنوین تعظیمی ہے اور سترہ اللہ میں سترمطلق بمعنی کامل ہے رب تعالٰی کی عطائیں ہمارے خیالات سے وراء ہیں۔