۱؎ یعنی کامل مسلمان ایمان اسلامی رشتہ کی وجہ سے ایسے ہیں جیسے ایک جسم کے اعضاء جن کے نام بھی مختلف ہیں کام اور شکل و صورت بھی جداگانہ مگر چونکہ ان سب کی روح ایک ہے اس لیے ایک عضو کی تکلیف تمام اعضاءکو بے قرار کردیتی ہے،یوں ہی مختلف ممالک کے مسلمانوں کے نام،کام،زبان،غذا،دنیاوی رہن سہن مختلف ہیں مگر ان سب کا نبی حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم ایک ہیں لہذا ایک کی تکلیف سارے مسلمانوں کو بے قرار کردیتی ہے مگر یہ کیفیت زندہ مسلمانوں کی ہے جو مردہ یا بےحس ہوگئے وہ مردہ جسم یا سوکھے ہوئے اعضاء کی طرح ہیں کہ ایک کو چوٹ لگاؤ دوسرے کو خبر نہ ہو۔
۲؎ یعنی ایک عضو کو بیماری ہو تو سارے اعضاء بے قرار ہوکر اس کی تکلیف دفع کرنے کی کوشش کرتے ہیں جب تک اسے آرام نہ ہوجاوے یہ چین سے نہیں رہتے،یوں ہی ایک مسلمان کی تکلیف کو ساری قوم مل کر دفع کرتی ہے اس کے بغیر چین سے نہیں بیٹھتی۔اللہ تعالٰی ہم سب کو اپنے محبوب سے وابستگی نصیب کرے اور ہمارے قوم کا یہ ہی حال ہوجاوے اب تو یہ حال ہے۔مصرع! سوئی ہوئی قومیں جھاگ اٹھیں بیدارمسلما ن سوتاہے۔