۱؎ ارامل جمع ہے ارمل کی جس کا مادہ رمل(ریگستان)چونکہ ریگستان باغات و سبزہ سے خالی ہوتا ہے اس لیے بے شوہر عورت کو ارملہ اور بے بی بی والے مرد کو ارمل کہتے ہیں خواہ کنوارے ہوں یا بیوہ یا خاوند نے طلاق دے دی ہو یا خاوند نے اسے معلقہ کر رکھا ہو اگر یہ فقیر ہے تو اس پر خرچ بھی کرے اور اس کا کام کاج بھی،اگر غنی ہے تو کام کاج کرے اس کا سودا سلف وغیرہ لا دیا کرے،لفظ ساعی ان دونوں کو شا مل ہے۔ (مرقات و اشعہ)ایسے شخص کا ثواب تو مجاہد و غازی فی سبیل اللہ کی طرح یا اس کے برابر ہے یہ خدمت بھی ایک قسم کا جہاد ہے۔
۲؎ یعنی جس قسم کا یا جتنا ثواب اس انتھک عابد کو ملتا ہے جو صائم الدہر قائم اللیل ہو اس قسم کا یا اتنا ثواب اس خدمت کرنے والے کو ملتا ہے۔احسب فرمانے والے حضرت ابوہریرہ ہیں قال کا فاعل حضور۔(مرقات)