Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
779 - 975
حدیث نمبر 779
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک عورت آئی جس کے ساتھ اس کی دو لڑکیاں تھیں مجھ  سے کچھ مانگتی تھیں ۱؎  تو اس نے میرے پاس ایک چھوہارے کے سوا کچھ نہ پایا میں نے اسے وہ ہی دے دیا ۲؎  اس نے وہ اپنی لڑکیوں میں بانٹ دیا اس میں سے خود نہ کھایا ۳؎  پھر اٹھی اور چلی گئی پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے تو میں نے حضور کو یہ خبر دی تو فرمایا جو کوئی بیٹیوں میں مبتلا کردیا جاوے ۴؎ پھر ان سے اچھا سلوک کرے تو وہ اس کے لیے آگ سے آڑ ہوجائیں گی ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  مرآت کی دوسری جلد باب السوال میں گزر گیا کہ بعض مجبوریوں میں مانگنا جائز ہے،یہ بی بی صاحبہ انہیں مجبوریوں میں پھنسی ہوں گی اس لیے اسے سوال درست تھا۔

۲؎  یعنی میرے پاس سواء ایک کھجور کے اور کچھ نہ تھا میں نے وہ اسے دے دی۔معلوم ہوا کہ جہاں تک ہوسکے فقیر کو کچھ دے دو تھوڑے بہت کا خیال نہ کرے،فقیر بھی تھوڑے کی شکایت نہ کرے تھوڑی چیز قبول ہو جاوے تو بہت ہے اگر بہت سی چیز قبول نہ ہو تو وہ کچھ بھی نہیں۔

۳؎  یعنی وہ خود بھی بھوکی تھی اس کی دونوں بچیاں بھی بھوکی تھیں مگر اس نے بچیوں کو کھلادیا خود کچھ نہ کھایا یہ ناممکن ہے کہ خود سیر ہو اور بچیاں بھوکی ہوں۔

۴؎  معلوم ہوا کہ بیٹیاں ملنا بھی رب کی طرف سے آزمائش ہے اکثر لوگ اس سے گھبرا جاتے ہیں اس پر صبر کرنا چاہیے کہ بے صبری سے اجربھی جاتا رہتا ہے۔

۵؎  یعنی یہ بیٹیاں اس کے لیے دوزخ سے نجات کا ذریعہ ہوں گی کہ وہ دوزخ میں جائے گا ہی نہیں یا اگر گیا تو وہاں دوزخ کی آگ اس تک نہ پہنچ سکے گی،یہ بیٹیاں پردہ بن کر اسے محفوظ رکھیں گی مگر شرط یہ ہی ہے کہ ان پر گھبرائے نہیں،ان سے اچھا سلوک کرے۔اس اجر کی وجہ یہ ہے کہ لڑکوں سے لوگوں کو بہت امید یں وابستہ ہیں کہ جوان ہوکر ہماری خدمت کریں گے لڑکیوں پرخرچ ہی کرنا ہوتا ہے وہ بھی بغیر کسی امید کے مگر دیکھا گیا ہے کہ آج کل بمقابلہ لڑکوں کے لڑکیاں ماں باپ  کی خدمت بھی زیادہ کرتی ہیں اور انکے مرے بعد ختم فاتحہ زیادہ لڑکیاں ہی کرتی ہیں کوئی خوش نصیب ہی لڑکوں سے آرام پاتے ہیں اکثر لڑکے بدنام اور بربادی کرتے ہیں۔
Flag Counter