۱؎ یعنی اللہ تعالٰی ہر قسم کے گناہ صغیرہ و کبیرہ اگر چاہے گا تو معاف فرمادے گا اس قاعدے سے شرک و کفر اور حق العباد خارج ہیں کہ شرک و کفر تو زندگی میں ایمان لائے بغیر معاف نہیں ہوتے اور حقوق العباد ادا کیے بغیر معاف نہیں ہوتے،نیز تمام گناہوں کی سزا آخرت میں ملے گی جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے جو کہ آگے آرہا ہے۔
۲؎ لصاحبہ میں ہ ضمیر عقوق کی طرف ہے اور الممات میں الف لام مضاف الیہ کی عوض ہے اس سے مراد یا تو خود یہ نافرمان بیٹا ہے یا ماں باپ۔خیال رہے کہ یہ فرمان عالی سخت ناراضی کے اظہار کے لیے ہے لازمی قانون کے لیے نہیں لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ"۔(مرقات)یا اس فرمان کا مقصد یہ ہے کہ جس گناہ پر دنیا میں بھی عذاب آجاتا ہے وہ ماں باپ کو ستانا ہے،شرک و کفر پر دنیا میں عذاب آنا لازم نہیں،ماں باپ کو ستانے والا دنیا میں چین نہیں پاتا۔