۱؎ خلاصہ یہ ہے کہ اطاعت شعار لڑکے کو ان کی فرمانبرداری کا ثواب تو ملے گا ہی پیار و محبت سے انہیں دیکھنے کا ثواب بھی ملے گا۔غورکرو کہ جب ماں باپ کے دیکھنے کا اتنا ثواب ہے تو جو مؤمن ان آنکھوں سے حضور کا چہرہ انور محبت سے دیکھے اس کو ثواب کتنا ملے گا،فقیر تو کہتا ہے کہ ان کے نام کو محبت سے دیکھنا چومنا بھی ثواب ہے۔شعر
خوشا وہ وقت کہ طیبہ مقام تھا ان کا خوشا وہ وقت کے دیدار عام تھاان کا
۲؎ سائل نے سمجھا ہوگا کہ دن بھر کی نگاہیں ایک بار میں شمار ہوں گی اس لیے یہ سوال کرکے مسئلہ حل کرلیا۔
۳؎ یعنی اے پوچھنے والے اللہ کریم کی دین پر تعجب نہ کر اگر تو دن بھر میں ہزار بار ماں باپ کو پیار سے دیکھ لے تو تجھے ہزار حج مقبول کا ثواب ملے گا۔خیال رہے کہ یہ تو اپنے ماں باپ کی محبت کا ثواب ہے جنہوں نے ہم کو جنا،جس ماں نے حضور محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و سلم دنیا کو بخشا اس ماں یعنی آمنہ خاتون حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما سے محبت کا ثواب کتنا ہوگا یہ وہ ماں ہے جس کے قدم پاک پر سارے جہان کی مائیں قربان و نثار ہوں ہماری جیسی سینکڑوں جانیں ان کے نام پر نچھاور ہوں۔