| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے جو اللہ کے لیے اپنے ماں باپ کے بارے میں مطیع ہو ۱؎ تو اس کے لیے جنت کے دو دروازے کھل جاتے ہیں۲؎ اگر ان میں سے ایک ہو تو ایک دروازہ اور جو اپنے والدین کے متعلق اللہ کا نافرمان ہو اس کے لیے آگ کے دو دروازے کھل جاتے ہیں۳؎ اگر ایک ہو تو ایک دروازہ ایک شخص نے عرض کیا اگرچہ وہ ظلم کریں فرمایا اگرچہ اس پر ظلم کریں اگرچہ ظلم کریں اگرچہ ظلم کریں ۴؎
شرح
۱؎ یہاں للہ فرماکر دو مسئلے بتائے: ایک یہ کہ ماں باپ کی اطاعت اپنی ناموری یا رزق میں برکت کے لیے نہ کرے بلکہ محض اس لیے کرے کہ اللہ تعالٰی کا حکم ہے رب تعالٰی اس سے راضی رہے۔دوسرے یہ کہ ان کی فرمانبرداری ناجائز باتوں میں نہ کرے اگر وہ نماز روزے سے روکیں تو نہ مانے۔ ۲؎ کہ اگر اس حال میں مرجاوے تو مرتے ہی ان میں داخل ہوجاوے۔دو دروازے کھولنا اس کی عزت افزائی کے لیے ہے ورنہ جنت میں داخلہ کے لیے ایک دروازہ کھلنا ہی کافی ہے۔حضرت ابوبکر صدیق کے لیے جنت کے ہر دروازہ پر پکار پڑے گی کہ ابوبکر ادھر سے آئیے۔خلاصہ یہ ہے کہ ماں کی خدمت کا دروازہ علیٰحدہ ہے باپ کی خدمت کا دروازہ علیٰحدہ ممکن ہے کہ ان دونوں دروازوں میں فرق ہو ماں کی خدمت کا دروازہ عظیم الشان ہو کہ ماں کی خدمت اعلیٰ ہے۔واللہ اعلم! ۳؎ اس کا مطلب ابھی عرض کیا گیا کہ ماں باپ کی نافرمانی دوزخ کے دروازہ کھلنے کا ذریعہ ہے کہ نافرمان مرا اور دوزخ میں گیا اگرچہ بعد قیامت اس کی دوسری نیکیاں دوزخ سے اسے نکال دیں مگر فی الحال تو دوزخ میں جائے گا،ماں باپ کی بددعا بڑے سے بڑے متقی کو آفت میں ڈال دیتی ہے۔تم کو معلوم ہے کہ جریج اسرائیلی نے نماز کی وجہ سے ماں کی پکار کا جواب نہ دیا تو مصیبت میں پھنس گیا کہ اسے زنا کی تہمت لگی لوگوں نے مارا اگرچہ پھر اپنی نیکیوں کی وجہ سے نجات پاگیا کہ شیرخوار بچے نے اس کی پاکدامنی کی گواہی دی جس سے اس کی گئی ہوئی عزت واپس آئی مگر ماں کی ناخوشی نے اپنا رنگ دکھا دیا ماں باپ کی نافرمانی ان کی بددعا سے رب کی پناہ۔ ۴؎ ظلم سے مراد دنیاوی ناانصافی ہے دینی گناہ مراد نہیں مثلًا ایک باپ اپنے بیٹوں میں سے ایک سے محبت کم کرتا ہے دوسری اولاد کو اس پر ترجیح دیتا ہے یا اسے کسی حق سے محروم کردیتا ہے مگر یہ مظلوم لڑکا ان کی خدمت ضرور کرے اس کی عوض اللہ تعالٰی اسے مالا مال کردے گا آزما کر دیکھ لو ماں باپ کی خدمت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔