۱؎ ماں باپ کی نافرمانی میں حق اللہ کی تلفی بھی ہے اور حق العباد کی بربادی بھی لہذا یہ اسلامی گناہ بھی ہے اور ماں باپ کا حق مارنا بھی اور گناہ بھی ہے کبیرہ۔
۲؎ یعنی یہ نافرمان والدین کی وفات کے بعد اولًا نافرمانی سے توبہ کرے پھر مرتے دم تک ان کے لیے گناہوں کی بخشش کی دعا اور ایصال ثواب کرتا رہے تو رب تعالٰی بزرخ میں اس کے ماں باپ کو اس سے راضی کردے گا اور اس کا گناہ کبیرہ تھا بغیر توبہ معاف نہیں ہوتا۔(مرقات)آپ ماں باپ کے بعد ان کا تیجہ،چالیسواں،برسی وغیرہ اور وقتًا فوقتًا ان کے نام پر خیرات جو کیا کرتے ہیں ان سب کی اصل یہ حدیث ہے بلکہ ہر نمازی نماز ختم ہوتے وقت ماں باپ کو دعائیں دے کر سلام پھیرتا ہے رب اغفرلی ولوالدی۔