| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ میرے پاس بیوی تھی جس سے میں محبت کرتا تھا اور حضرت عمر اسے ناپسند کرتے تھے انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ اسے طلاق دے دو ۱؎ میں نے انکار کیا تو حضرت عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اس واقعہ کا حضور سے ذکر کیا تو مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اسے طلاق دے دو ۲؎(ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎ شاید اس بی بی میں کوئی دینی خرابی ہوگی محض دنیاوی وجہ پر طلاق کا حکم نہ دیا ہوگا۔ ۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہ امرو جوب کا ہے اور حضرت عبداللہ ابن عمر پر اس حکم کی بنا پر طلاق دینا واجب ہوگیا۔مرقات نے فرمایا کہ امر استحباب کے لیے ہے یعنی بہتر یہ ہے کہ طلاق دے دو تاکہ تمہارے والد تم پر ناراض نہ ہوں۔