| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس شربتی گندم کی سفید روٹی ہوتی جو گھی اور دودھ سے چوپڑی ہوتی ۱؎ تو قوم میں سے ایک صاحب اٹھے انہوں نے یہ تیار کی پھر لائے تو فرمایا یہ گھی کس چیز میں تھا عرض کیا گوہ کے ڈبہ میں ۲؎ فرمایا اسے اٹھالو۳؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)ابوداؤد نے کہا یہ حدیث منکر ہے۴؎
شرح
۱؎ یعنی ہمارا دل چاہتا ہے کہ اعلیٰ درجہ کی گندم کی روٹی ہو گھی میں چُپڑ کر دودھ میں بھگو دی گئی ہو وہ ہم کھائیں۔معلوم ہوا کہ اللہ کی اعلیٰ نعمتیں کھانا یا کھانے کی خواہش کرنا تقویٰ کے خلاف نہیں نہ معلوم کیا وقت تھا اور کیا رنگ تھا کہ اس محبوب صلی اللہ علیہ و سلم نے یہ خواہش فرمائی۔بعض مسلمان اس حدیث کو دیکھ کر یہ ہی کھانا تیار کرکے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی فاتحہ کرکے مساکین کو کھلاتے ہیں،عشق کے رنگ نیارے۔ ۲؎ یعنی جو گھی ان روٹیوں میں چپڑا گیا ہے وہ گوہ کی کھال کے مشکیزہ میں تھا غالبًا حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے اس گھی میں ہلکی سی بو محسوس فرمائی اس لیے پوچھا۔ ۳؎ یعنی تم کھالو یا کسی اور کو کھلاؤ ہم ملاحظہ نہ فرمائیں گے۔معلوم ہوا کہ یہ حرام نہ تھا حضور انور کو ناپسند تھا قدرے مہک کی وجہ سے۔ ۴؎ یعنی ضعیف اور نامقبول ہے۔اشعۃ اللمعات اور مرقات نے فرمایا کہ ابوداؤد نے اس حدیث کو اس لیے منکر فرمادیا کہ یہ حدیث عادت کریمہ کے خلاف ہے۔حضور اعلیٰ کھانوں کی آرزو کیسے کرسکتے ہیں آپ تو تابعین و متوکلین کے سردار ہیں ہم نے ابھی اس کی وجہ بیان کردی کہ یہ عمل شریف یہاں جواز کے لیے ہے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے مرغ کھایا ہے،بٹیریں ملاحظہ فرمائی ہیں،جب اعلیٰ نعمتوں کا کھانا تقویٰ کے خلاف نہیں تو ان کی خواہش کرنا خلاف تقویٰ کیونکر ہوگا۔