| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت سلمان سے فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے گھی اور پنیر اور حمار وحشی کے متعلق پوچھا گیا ۱؎ تو فرمایا کہ حلال وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے اپنی کتاب میں حرام کیا ۲؎ اور جس سے خاموشی فرمائی تو وہ اس میں سے ہے جس سے معافی دی ۳؎(ابن ماجہ،ترمذی)ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور صحیح تر قول پر یہ حدیث موقوف ہے ۴؎
شرح
۱؎ فراء ف کے کسرہ ر کے مدسے بمعنی حمار وحشی،ان تین کے متعلق پوچھا گیا کہ یہ حلال ہیں یا حرام،ان کا کھانا کیسا ہے۔ہماری اردو میں حمار وحشی کو نیل گائے کہتے ہیں، بعض لوگوں نے فراء کے معنی کیے ہیں پوستین کہ اس کا پینا جائز ہے یا نہیں تب یہ فرد سے بنے گا۔ ۲؎ کتابہ سے مراد قرآن مجید ہے اور احل و حرم سے مراد عام ہے خواہ صراحۃً حلال و حرام کیا ہو یا اجمالًا لہذا رمضان کی راتوں میں اپنی بیویوں سے صحبت کا حلال ہونا اور سؤر کے گوشت کا حرام ہونا صراحۃً قرآن مجید میں مذکور ہے،ہزارہا حلال و حرام جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حلال و حرام کیے جیسے کتا گدھا وغیرہ،یہ قرآن مجید میں اجمالًا موجود ہیں،رب تعالیٰ فرماتاہے:"وَمَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ وَمَا نَہٰىکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا"یا فرماتاہے:"وَیُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الْخَبٰٓئِثَ"ان آیات نے بتا دیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم جو دیں وہ لو جس سے منع فرمادیں ان سے باز رہو،یا ہمارے نبی مسلمانوں پر گندی چیزیں حرام فرماتے ہیں لہذا حدیث کے تمام حلال و حرام قرآن مجید میں اجمالًا مذکور ہیں۔(ازمرقات مع الزیادۃ) ۳؎ یعنی جن چیزوں کو نہ قرآن کریم نے حلال یا حرام کہا نہ حدیث پاک نے یعنی ان کا ذکر ہی کہیں نہیں وہ حلال ہیں۔یہاں مرقات اور اشعۃ اللمعات اور لمعات نے فرمایا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اصل اشیاء میں اباحت ہے یعنی جس سے قرآن و حدیث میں خاموشی ہو وہ حلال ہے آم مالٹا یوں ہی پلاؤ زردہ،فرنی،یوں ہی لٹھا ململ۔یوں ہی میلاد شریف و فاتحہ کی شیرینی سب حلال ہیں،کیوں،اس لیے کہ انہیں قرآن و حدیث نے حرام نہیں کیا یہ اسلام کا کلی قانون ہے۔ ۴؎ اس حدیث کے الفاظ اسناد کے لحاظ سے صحیح ہوں یا ضعیف مگر اس کا مضمون بالکل صحیح ہےکیونکہ اس کی تائید بہت سی آیات قرآنیہ سے ہورہی ہے،رب تعالیٰ فرماتاہے:"لَا تَسْـَٔلُوۡا عَنْ اَشْیَآءَ اِنۡ تُبْدَ لَکُمْ تَسُؤْکُمْ"،الخ"عَفَا اللہُ عَنْہَا"دیکھو یہاں حدیث میں عفی ہے اور قرآن کریم میں"عَفَا اللہُ عَنْہَا"ہے اور فرماتاہے:"قُلۡ لَّاۤ اَجِدُ فِیۡ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰی طَاعِمٍ یَّطْعَمُہٗۤ اِلَّاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ مَیۡتَۃً اَوْ دَمًا مَّسْفُوۡحًا"الخ،دیکھو اس آیت میں کسی چیز کی حرمت نہ ملنے کو حلال ہونے کی دلیل ٹھہرایا اور فرماتاہے:"وَاُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ"ان مذکورہ حرام عورتوں کے سوا تمام عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں،دیکھو حرام عورتوں کا کیا حرام کی تفصیل نہ کی،حرام چیزیں تو کچھ گنتی کی ہیں باقی کروڑوں چیزیں حلال ہیں۔اس کی تحقیق ہماری کتاب جاءالحق میں اور راہِ جنت میں دیکھو جہاں اس مسئلہ کی چند آیتیں اور چند حدیثیں اور فقہاء کے اقوال جمع کردیئے گئے ہیں۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو بغیر دلیل ہر چیز کو حرام کہہ دیتے ہیں،حلال کے لیے ثبوت مانگتے ہیں حرام بغیر ثبوت کہہ دیتے ہیں۔