Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
766 - 975
حدیث نمبر 766
روایت ہے حضرت ابو اسید ساعدی سے فرماتے ہیں جب کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس تھے کہ بنی سلمہ کا ایک آدمی آیا عرض کیا یارسول اللہ کیا میرے والدین کی بھلائیوں میں سے کوئی بھلائی باقی ہےجو میں ان کی موت کے بعد ان سے کروں ۱؎ فرمایا ہاں ان کے لیے دعا رحمت ان کی بخشش کی دعا ان کے بعد ان کے وعدے پورے کرنا اور ان رشتوں کو جوڑنا جو ان ہی کی وجہ سے ہی جوڑے جائیں۲؎  اور ان کے دوستوں کا احترام کرنا ۳؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ آپ صحابی ہیں،انصاری ہیں،تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،آپ سے بہت محدثین نے روایات کیں آخر میں نابینا ہوگئے تھے،۷۸ اٹھتر سال عمر پائی،   ۶۰ھ؁ ساٹھ میں وفات ہوئی،آپ سارے بدری صحابہ میں آخری صحابی تھے کہ آپ کی وفات سے بدری صحابہ کا سلسلہ ختم ہوا،بڑی عظمتوں برکتوں والے تھے رضی اللہ عنہ۔ یعنی میرے ماں باپ کا انتقال ہوچکا ہے اب میں ان سے کوئی سلوک کیسے کروں دل چاہتا ہے کہ سلوک کا سلسلہ قائم رہے۔

۲؎ یعنی اب تم ان کے ساتھ چار قسم کے سلوک کرسکتے ہو: ایک تو ان کے لیے دعاء خیر اور ان کے گناہوں کی معافی کی رب سے درخواست،دعا میں نماز جنازہ بھی داخل ہے۔(مرقات)ہر نماز کے آخر میں رب اغفرلی و لوالدی پڑھنا بھی،ان کے نام پر صدقات و خیرات کرنا بھی،ان کی طرف سے حج بدل کرنا یا کرانا بھی،ان کا تیجہ،دسواں،چالیسواں،برسی وغیرہ کرنا بھی غرضکہ یہ ایک لفظ بہت جامع ہے یعنی ان کی وصیت پوری کرنا اس کے علاوہ انہوں نے اپنی زندگی میں کسی سے جو وعدہ کیا ہو اور بغیر پورا کیے مر گئے ہوں وہ پورا کرنا اس میں ادائے قرض بھی داخل ہے۔بعض لوگ اپنے والدین کی اچھی رسمیں باقی رکھتے ہیں یہ بھی اسی میں داخل ہے،اگر ماں باپ کسی تاریخ میں خیرات کرتے تھے یا میلاد شریف گیارھویں کرتے تھے تو وہ ہمیشہ نبھاتے ہیں،جس مسجد میں نماز پڑھتے تھے اس مسجد کی آبادی کی کوشش کرتے ہیں،جس خانقاہ سے انہیں عقیدت تھی اس خانقاہ سے وابستہ رہتے ہیں یہ صورتیں اسی حدیث میں داخل ہیں۔

۳؎  اس فرمان عالی کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ جن عزیزوں سے رشتہ صرف ماں یا باپ کی وجہ سے ہو دوسری وجہ سے نہ ہو ان سے سلوک کرنا کہ یہ میرے والدین کی خوشنودی کا ذریعہ ہے اس میں بھائی بہن،چچا ماموں،پھوپھی خالہ سب ہی داخل ہیں۔دوسرے یہ کہ خالص رضاء والدین کے لیے ان سے سلوک کرنا اپنی ناموری یا شہرت وغیرہ کو دخل نہ دے۔اس سے معلوم ہوا کہ بندوں کی رضا کے لیے کام کرنا بھی بعض صورتوں میں ثواب کا باعث ہے لہذا حضور کی رضا کے لیے نیک اعمال کرنا بالکل جائز ہے شرک یا گناہ نہیں نبی کریم کا حق ماں باپ سے زیادہ ہے،مرقات وا شعہ نے اسی دوسرے احتمال کو اختیار کیا۔غرضکہ ان عزیزوں کی والدین کی رضا کے لیے خدمت کرے اور والدین کی رضا اللہ رسول کی رضا کے لیے چاہیے۔احترام میں تعظیم و اکرام بھی داخل ہے اور ان کی خدمت ان پر مال خرچ کرنا بھی شامل ہے،بیٹا باپ کے دوستوں ماں کی سہیلیوں سے سلوک کرے۔
Flag Counter