۱؎ یعنی میں نے قولی یا عملی بدترین گناہ کرلیا ہے ایسے بدترین گناہ کی بھی توبہ ہوسکتی ہے یا نہیں۔خیال رہے کہ یہاں سوال گناہ کے متعلق ہے کسی بندے کے حق کے متعلق نہیں کہ حق العبد بغیر ادا کیے یا بغیر اس صاحب حق کے معاف کیے معاف نہیں ہوتا۔
۲؎ یہ ہے حضور کی شان پردہ پوشی کہ اس سے پوچھانہیں کہ تو نے گناہ کیا کیا ہے تاکہ وہ لوگوں کے سامنے بیان کرکے رسوا نہ ہو۔حضور کو معلوم تھا کہ اس نے گناہ کیا ہے جو صلہ رحمی کی وجہ سے معاف ہوسکتا ہے کسی کا حق نہیں مارا ہے جس کی معافی صلہ رحمی وغیرہ نیک عمل سے نہ ہوسکے۔اس فرمان عالی سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ صلہ رحمی سے گناہ معاف ہوتے ہیں کہ صلہ رحمی بھی نیکی ہے اور نیکیوں سے گناہوں کی معافی ہوتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"۔دوسرے یہ کہ چھپے گناہ کی توبہ بھی چھپ کر ہی کرے،ہاں علانیہ گناہ کی توبہ علانیہ کرے التوبۃ علی قدر الحوبۃ توبہ گناہ کے حد کی ہو اس سے نبی کریم کے علم غیب کا بھی ثبوت ہوا۔