| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابو طفیل سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو مقام جعرانہ میں گوشت تقسیم فرماتے دیکھا ۲؎ کہ ایک بی بی صاحبہ آئیں حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے قریب ہوگئیں تو حضور نے ان کے لیے اپنی چادر بچھا دی وہ اس پر بیٹھ گئیں۳؎ میں نے کہا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا یہ حضور کی وہ ماں ہیں جنہوں نے حضور کو دودھ پلایاہے ۴؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ کا نام عامر ابن واثلہ ہے،امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کے خاص ہمراہیوں میں سے ہیں،آخری صحابی جن کی وفات ہوئی آپ ہی ہیں،آپ کی وفات سے دور صحابہ ختم ہوا۔ ۲؎ جعرانہ مکہ معظمہ سے ایک منزل فاصلہ پر ہے طائف کے راستہ میں میدان حنین سے متصل ہے غزوہ حنین کے بعد حضور انور نے یہاں سولہ دن قیام فرمایا یہاں ہی حنین کی غنیمتیں تقسیم فرمائیں۔ ۳؎ اللہ اکبر بادشاہوں کے ایلچی آئیں تو جوتوں پر بیٹھیں جبریل امین آئیں تو التحیات کی طرح حضور کے سامنے دو زانو بیٹھیں مگر یہ خوش نصیب بی بی حاضر ہوں تو ان کے لیے چادر بچھائی جس پر وہ بیٹھیں یہ ہے دودھ کی ماں کی عزت و احترام ۔ ۴؎ یہ والدہ حضرت حلیمہ بنت ابی ذویب ہیں جو قبیلہ ہوازن کی ایک بی بی ہیں حضور کی شیر خوارگی کی مدت آپ نے پوری کرائی،غزوہ حنین کے موقعہ پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں،آپ ان کے لیے کھڑے ہوگئے اور اپنی چادر مبارک بچھادی۔حق یہ ہے کہ ثویبہ اور حلیمہ اسی طرح حلیمہ کے خاوند مسلمان ہوگئے۔بی بی خدیجہ سے جب حضور انور نے نکاح کرلیا تو ثویبہ حضور کے پاس آیا کرتی تھیں حضور ان کا بہت احترام فرماتے تھے اور مدینہ منورہ سے ثویبہ کے لیے کپڑے وغیرہ ہدایا بھیجا کرتے تھے،بی بی ثویبہ کی وفات فتح خیبر کے بعد ہے۔دیکھو(مرقات،اشعہ)