۱؎ یعنی اپنے ددھیال ننھیال کے رشتہ یاد رکھو اور یہ بھی دھیان میں رکھو کہ کسی سے ہمارا کیا رشتہ ہے تاکہ بقدر رشتہ ان کے حق ادا کرتے رہو،اگر تم کو رشتہ داروں کی خبر ہی نہ ہوگی تو ان سے سلوک کیسے کرو گے۔
۲؎ مثراۃ بناہے ثریٰ سے بمعنی کثرت اسی سے ہے ثروت،مثرات کے معنی ہیں زیادتی مال اور برکت کا ذریعہ ہے۔
۳؎ منساۃ بنا ہے نساء سے بمعنی تاخیر یا دیر اس لیے ادھار کو نسیہ کہتے ہیں کہ اس کی وصولی میں دیر ہوتی ہے۔اجل بمعنی موت یعنی اس کی برکت سے موت دیر سے آتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عمر بڑھتی ہے اس کا بہت لوگوں سے تجربہ کیا ہے بالکل درست پایا۔