| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے بہز ابن حکیم سے وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی ۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں کس سے سلوک کروں فرمایا اپنی ماں سے میں نے عرض کیا پھر کس سے فرمایا پھر اپنی ماں سے میں نے عرض کیا پھر کس سے فرمایا اپنی ماں سے میں نے عرض کیا پھر کس سے فرمایا اپنے باپ سے ۲؎ پھر درجہ بدرجہ قرابت داروں سے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے کہ آپ بہز ابن حکیم ابن معاویہ ابن حیدہ قشیری ہیں،بصری ہیں،یہاں جدہ میں ہ ضمیر بہز کی طرف لوٹتی ہے لہذا معاویہ ابن حیدہ سے یہ روایت ہے۔ ۲؎ اس کی شرح پہلے ہوچکی کہ حق الخدمت ماں کا تین گنا ہے باپ کا ایک گنا کہ ماں نے بچہ کو اولًا پیٹ میں رکھا،پھر جنا،پھر دودھ پلایا،اس کے بعد کی پروش میں ماں باپ دونوں شریک رہے۔خیال رہے کہ حق خدمت ماں کا زیادہ ہے۔ ۳؎ ظاہر یہ ہے کہ قرابت داروں سے مراد نسبی قرابت دار ہیں ان میں جتنا قرب زیادہ اتنا حق زیادہ۔چنانچہ پہلے بھائی بہن پھر ماموں چچا وغیرہ اور ہوسکتا ہے کہ قرابت دار عام مراد ہوں جن میں ساس،سالا رضاعی ماں وغیرہ سب شامل ہوں۔