Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
760 - 975
حدیث نمبر 760
روایت ہے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تبارک و تعالٰی فرماتا ہے کہ میں اللہ ہوں ۱؎ اور میں رحمان ہوں میں نے رحم کو پیدا فرمایا ۲؎ اور اس کے لیے اپنے نام سے نام مشتق کیا ۳؎ تو جو اسے جوڑے گا میں اسے جوڑوں گا اور جو اسے توڑے گا میں اسے توڑوں گا ۴؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی معبودحقیقی ہوں،سب سے غنی ہوں،سب کا داتا ہوں۔

۲؎  رحم سے مراد یا تو رحمی رشتے اور قرابت داریاں ہیں یا خاص رحم ہے یعنی بچہ دانی جو عورت کے پیٹ میں ہے کہ یہ تمام نسبی رشتوں کا ذریعہ ہے۔

۳؎  یعنی اپنے نام سے اس کا نام بنایا یہاں اشتقاق صرفی مراد نہیں کہ اس قاعدہ سے تو لفظ رحمن بنا ہے رحم سے۔

۴؎  یعنی جو رشتہ داروں کے حقوق ادا کرے گا میں اسے اپنے سے ملالوں گا اور اپنی رحمت تک پہنچادوں گا اور جو ان کے حقوق ادانہ کرے گا یا ان پر ظلم کرے گا میں اسے اپنی رحمت سے دور کروں گا جو مجھ سے ملنا چاہے وہ اپنے عزیزوں کے حق ادا کرے گا یا ان پر ظلم کرے گا میں اسے اپنی رحمت سے دور کروں گا جو مجھ سے ملنا چاہے وہ اپنے عزیزوں کے حق ادا کرے۔
Flag Counter