| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابی الدرداء سے کہ ایک شخص انکے پاس آیا بولا میری بیوی ہے اور میری ماں اسے طلاق دے دینے کا مجھے حکم دیتی ہے ۱؎ تو ان سے ابوالدرداء نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ والدین جنت کے دروازوں میں بیچ کا درازہ ہیں تو اگر تم چاہو تو دروازہ سنبھال لو یا اسے ڈھا دو ۲؎(ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی فرمایئے میں کیا کروں اسے طلاق دوں یا نہ دوں کہ طلاق تمام مباح چیزوں میں بہت ہی ناپسندیدہ چیز ہے۔ ۲؎ مقصد یہ ہے کہ یا تو اپنی بیوی سے اپنی ماں کو راضی کردو ساس بہو کی صلح کرا دو یا طلاق دے دو صراحۃً طلاق کا حکم نہ دیا کہ ایسی صورت میں طلاق دینا واجب نہیں بہتر ہے اور اگر ماں باپ بیوی پر ظلم کرنے کا حکم دیں کہ اسے خرچہ نہ دے اسے میکے میں چھوڑ دے تو ہرگز نہ کرے کہ ظلم حرام ہے ماں باپ کی اطاعت حکم شرع کے خلاف میں نہیں۔