۱؎ غالبًا اس وقت باپ کی خدمت ہی کا ذکر ہوگا اس لیے صرف باپ کا ذکر فرمایا ورنہ ماں کا بھی یہ ہی حکم ہے بلکہ بطریق اولیٰ اس کی مستحق ہے،ممکن ہے کہ والد سے مراد جنس ہو یعنی ولادت والا خواہ مرد ہو یا عورت یعنی ماں ہو یا باپ۔طبرانی نے حضرت ابن عمر سے مرفوعًا روایت کیا فی رضا الوالدین اور فی سخطمہا۔وہ حدیث اس کی شرح ہے کہ والد سے مراد والدین ہیں۔اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ حضور کا یہ فرمان خود عبداللہ ابن عمروسے تھا کہ وہ خود عابد زاہد تہجدگزار شب بیدار تھے مگر ان کے والد عمرو ابن عاص نے حضور سے شکایت کی کہ میں اپنے بیٹے سے ناراض ہوں تب آپ نے یہ ان سے فرمایا۔