| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ میں جنت میں گیا تو میں نے اس میں تلاوت سنی ۱؎ میں نے کہا یہ کون ہے بولے یہ حارثہ ابن نعمان ہیں ۲؎ بھلائی ایسی ہوتی ہے بھلائی ایسی ہوتی ہے۳؎ اور وہ اپنی ماں کے ساتھ سب سے زیادہ نیکوکار تھے ۴؎ شرح سنہ بیہقی شعب الایمان اور ان کی روایت میں ہے فرمایا میں سویا تو میں نے اپنے کو جنت میں دیکھا۵؎ بجائے دخلت الجنۃ کے۔
شرح
۱؎ یعنی ایک بار خواب میں ہم نے جنت دیکھی تو کسی کو خوش الحانی سے قرآن مجید تلاوت کرتے پایا قراءۃ کی تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے یعنی قراءۃ القرآن۔ ۲؎ آپ بڑے جلیل القدر صحابی ہیں،غزوہ بدر و احد میں شریک ہوئے،ایک بار حضور اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے حضور کے پاس کوئی شخص بیٹھا تھا آپ نے سلام کیا اس شخص نے بھی جواب دیا،جب دوبارہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو حضور نے فرمایا وہ صاحب جنہوں نے تم کو سلام کا جواب دیا حضرت جبریل تھے۔غالبًا حارثہ اس وقت وفات پاچکے تھے ہوسکتا ہے کہ اس وقت زندہ ہوں،پہلا احتمال قوی ہے۔ ۳؎ یہ جملہ یا تو حضور انور کا فرمان ہے جو صحابہ سے فرمایا یا فرشتوں کی عرض و معروض ہے جو انہوں نے حضور سے کی تو ذلکم کی جمع تعظیم کے لیے ہے۔ ۴؎ یہ قول راوی ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنی والدہ کی بہت ہی خدمت کرتے تھے اس کی وجہ سے انہیں یہ عظمت ملی۔ ۵؎ اس عبارت سے صاف معلوم ہوا کہ یہ واقعہ خواب کی معراج کا ہے نہ کہ بیداری کی معراج کا جیساکہ ابھی عرض کیا گیا۔