۱؎ اس عبارت کے معنی پہلے بیان ہوچکے کہ جو رشتہ داروں کا حق ادا کرے گا اللہ سے قرب پائے گا اور جو ادا نہ کرے گا یا ان پر ظلم کرے گا وہ اللہ کی رحمت سے دور ہوجاوے گا۔اس میں گفتگو ہے کہ رشتہ داروں کی حد کہاں تک ہے جس کے حقوق ادا کرنا ضروری ہیں۔بعض علماء نے فرمایا کہ جن سے نکاح حرام ہے وہ ذی رحم ہیں لہذا چچا زاد خالہ زاد ذی رحم نہیں،بعض نے فرمایاکہ جن دو کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے وہ ذی رحم ہے،بعض کے نزدیک جن کو میراث پہنچ سکے وہ ذی رحم ہے لہذا والدین ،اولاد ،بھائی،بہن چچا ماموں ان کی اولاد سب ذی رحم ہیں یہ ہی قول قوی ہے۔(مرقات)رب تعالٰی فرماتاہے:"وَاُوْلُوا الۡاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ"۔یہ گفتگو ذی رحم کے متعلق ہے ان کے علاوہ دوسرے قرابت دار جیسے ساس،سالا،رضاعی ماں رضاعی بھائی یعنی ان کے ساتھ بھی سلوک کرے،رب تعالی فرماتا ہے :"اٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ"حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حلیمہ اور جناب ثویبہ کے عزیزوں سے سلوک کئے۔
۲؎ قاطع سے مراد یا تو ڈاکو ہے یعنی قاطع طریق(راہ مار)یا قاطع رحم یعنی رحم یعنی حقوق ادا نہ کرنے والا دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں اس لیے یہ حدیث اس باب میں لائی گئی یعنی یہ لوگ اولًا جنت میں نہ جائیں گے پہلے سزا پائیں گے پھر جائیں۔