۱؎ صلح حدیبیہ کے بعد کفار مدینہ منورہ آنے جانے لگے تھے اس دوران میں حضرت ابوبکر صدیق کی پہلی بیوی حضرت اسماء کی والدہ آئیں۔
۲؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں راغمۃ ہے میم سے مگر اکثر نسخوں میں راغبۃ ب سے ہے،راغمۃ میم سے بمعنی عاجز،ذلیل،خوار،مسکین و غریب یعنی وہ میرے پاس عاجز و محتاج ہوکر آئی ہے میرے مال کی حاجت مند ہے۔راغبۃ ب سے ہو تو اس میں دو احتمال ہیں: ایک یہ کہ بمعنی رغبت خواہش ہو یعنی وہ میرے مال میری خدمت کی خواہش مند ہے،دوسرے یہ کہ بمعنی بے رغبتی و روگردانی ہو یعنی وہ اسلام سے بے رغبت ہے اسے اسلام کی طرف رغبت و میلان نہیں،اگر رغبت کے بعد فی ہو تو بمعنی میلان ہوتی ہے اگر عن ہو تو بمعنی بے رغبتی۔
۳؎ معلوم ہوا کہ کافرومشرک ماں باپ کی بھی خدمت اولاد پر لازم ہے۔فقہاء فرماتے ہیں کہ مشرک باپ کو بت خانہ لے نہ جائے مگر جب وہاں پہنچ چکا ہو تو وہاں سے گھر لے آئے کہ لے جانے میں بت پرستی پر مدد ہے اور لے آنے میں خدمت ہے،دوسرے عزیز و قرابت داربھی اگر مشرک و کافر ہو مگر محتاج ہوں تو ان کی مالی خدمت کرے۔(از اشعہ)