۱؎ یعنی وہ ذلیل ہوجاوے وہ ذلیل ہوجاوے وہ ذلیل ہوجاوے۔ناک رگڑنے سے مراد ذلت و خواری ہے ناک رگڑنے سے مراد ذلت و خواری ہوتی ہے۔
۲؎ احدھما اور کلاھما یہ دونوں عندالکبر کا فاعل ہیں لہذا مرفوع ہیں یعنی انہیں اس حال میں پائے کہ وہ دونوں یا ایک۔بڑھاپے کی قید اس لیے لگائی کہ اس وقت ہی خدمت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور بارگاہِ الٰہی میں بوڑھے کی دعا زیادہ قبول ہوتی ہے،وہ کریم سفید داڑھی بالوں والے بندے کے پھیلے ہوئے ہاتھ خالی نہیں پھیرتا،اولاد کو چاہیے کہ ایسے وقت اور ایسے وقت کی خدمت کو غنیمت جانیں۔
۳؎ یا اس طرح کہ ان کی نافرمانی کرے یا اس طرح کہ انکی خدمت میں کمی کرے یا اس طرح کہ انہیں سخت جواب دے۔خیال رہے کہ بڑھاپے میں طبیعت چڑچڑی ہوجاتی ہے،غصہ بڑھ جاتا ہے اس وقت ان کی سخت بات برداشت کرے ان کی سختی کی پرواہ نہ کرے،سمجھے انکی مت کٹ گئی ہے ان شاءاللہ دونوں جہان میں آرام پائے گا،قرآن کریم فرماتاہے:"اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنۡدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَاۤ اَوْکِلَاہُمَا فَلَا تَقُلۡ لَّہُمَاۤ اُفٍّ وَّلَا تَنْہَرْہُمَا وَقُلۡ لَّہُمَا قَوْلًاکَرِیۡمًا"بڑھاپے کا ذکر اس لیے بارہا ہوتا ہے کہ وہ وقت تو سنبھالنے کا ہے جس نے وہ وقت سنبھال لیا اس نے کمائی کرلی،ایسے آڑے وقت میں ان پر دل کھول کر خرچ بھی کرے،ان کی خدمت بھی کرے،انکے لیے دعا بھی کرے۔بچپن میں یہ مجبور تھا تو ماں باپ نے اسے سنبھالا اور وہ مجبور ہیں تو یہ انہیں سنبھالے اللہ کی رحمت اسے سنبھالے گی۔(مرقات)