Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
741 - 975
باب البر و الصلۃ

نیکی اور صلہ رحمی کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ بر ب کے کسرہ ر کے شد بمعنی نیکی و بھلائی،یہاں اس سے مراد ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا ہے جس کا مقابل ہے عقوق(نافرمانی)۔صلۃ بنا ہے وصل سے بمعنی ملنا ملانا یہاں اس سے مراد رحمی قرابت داروں پر احسان اور ان سے سلوک کرنا کہ اس سے عزیزوں کے دل مل جاتے تھے۔بر کا اسم فاعل بار ہے جمع بررہ،صلہ کا ا سم فاعل واصل ہے جمع وصلہ اور واصلین۔
حدیث نمبر 741
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اللہ میرے اچھے برتاوے کا زیادہ حقدار کون ہے ۱؎ فرمایا تمہاری ماں عرض کیا پھر کون فرمایا تمہاری ماں عرض کیا پھر کون فرمایا تمہاری ماں عرض کیا پھر کون فرمایا تمہارا باپ۲؎  اور ایک روایت میں ہے کہ فرمایا تمہاری ماں پھر تمہاری ماں پھر تمہاری ماں پھر تمہار اباپ پھر تمہارا قریبی پھر قریبی ۳؎
شرح
۱؎ صحابۃ صاد کے کسرہ سے بمعنی مدد یا برتاوا،خدمت اسی سے ہے صحبت و ہمراہی جو الفت خدمت و مدد کے ساتھ ہو اس لیے جن کفار نے حضور انور کے ساتھ مجلس کی انہیں صحابی نہیں کہا جاتا کہ وہ ہمراہی الفت و خدمت کے ساتھ نہ تھی یعنی میرے رشتہ دار قریبی دور کے بہت ہی ہیں اچھا برتاوا کس سے کروں اس کا کون مستحق ہے۔

۲؎  اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ ماں کا حق باپ سے تین گنا زیادہ ہے کیونکہ ماں بچہ پر تین احسان کرتی ہے باپ ایک احسان۔پیٹ میں رکھنا،جننا،پرورش کرنا باپ صرف پرورش ہی کرتا ہے۔بیٹا ماں باپ دونوں کی خدمت کرے مگر مقابلہ کی صورت میں ادب و احترام باپ کا زیادہ کرے خدمت و انعام ماں کی زیادہ۔(اشعہ)ماں باپ کے ساتھ سلوک یہ ہے کہ ان سے نرم اور نیچی آواز سے کلام کرے،مالی و بدنی خدمت کرے یعنی اپنے نوکروں سے ہی ان کا کام نہ کرائے بلکہ خودکرے،ان کا ہر جائز حکم مانے،انہیں نام لے کر نہ پکارے،اگر وہ غلطی پر ہوں تو نرمی سے ان کی اصلاح کرے،اگر قبول نہ کریں تو ان پر ڈانٹ ڈپٹ نہ کرے، ان کی سختی پر تحمل کرے،یہ آداب قرآن مجید میں اور حضرت خلیل اللہ علیہ السلام کے عمل شریف میں مذکور ہیں اس کے متعلق ہماری تفسیرنعیمی کا مطالعہ فرماؤ۔

۳؎  یعنی ماں باپ کے ساتھ ان کے عزیزوں کے حق بھی ادا کرے کہ چچا ماموں،دادا نانا،بہن بھائی وغیرہم کے حقوق ادا کرے۔
Flag Counter