| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تمہارے یہ نسب کسی پر گالی کا سبب نہیں ہیں ۱؎ تم سب آدم کی اولاد ہو جیسے صاع کی چیز صاع سے ہے جسے اس نے بھرا نہ ہو ۲؎ کسی کو کسی پر بزرگی نہیں مگر دین اور تقویٰ سے انسان کے لیے یہ شرم و عار کافی ہے کہ وہ بد زبان فحش گو کنجوس ہو۳؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ یعنی کوئی شخص کسی کو نسب کی گالی نہ دے نسب گالی و عار نہیں جیسے کہا جاتا ہے او جولائے،او نائی وغیرہ یہ حرام ہے نسب کو گالی نہ بناؤ یہ مرض بھی مسلمانوں میں بہت ہے۔ ۲؎ طف ط کے فتحہ سے ف کے شد سے بمعنی کم ہونا کم کرنا اسی سے ہے تطفیف بمعنی کم تولنا،رب تعالٰی فرماتاہے:"وَیۡلٌ لِّلْمُطَفِّفِیۡنَ"۔اصطلاح میں طف وہ چیز ہے جو صاع وغیرہ پیمانہ میں بھری جاوے مگر اسے پُر نہ کرے کچھ خالی رہے۔مطلب یہ ہے کہ ہر انسان پور ا کامل انسان نہیں اس میں کچھ کمی و نقصان ضرور ہے جیسے صاع پیمانہ کا طف کہ اس میں کمی ہوتی ہے۔ ۳؎ یعنی یہ خصلتیں شرم و عار کی چیزیں ہیں نہ کہ محض نسب لہذا ان عیوب سے بچنے کی کوشش کرو نسب پر طعن کیسا۔