روایت ہے حضرت عبادہ ابن کثیر شامی سے ۱؎ جو فلسطین والوں سے ہیں وہ ان کی ایک عورت سے راوی جسے فسیلہ کہا جاتا ہے۲؎ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد سے فرماتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا میں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا یہ بھی تعصب سے ہے کہ کوئی شخص اپنی قوم سے محبت رکھے۳؎ فرمایا نہیں لیکن تعصب سے یہ ہے کہ کوئی شخص ظلم پر اپنی قوم کی مدد کرے ۴؎(احمد،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ حاشیہ اشعۃ اللمعات میں ہے کہ ان کا نام عباد ابن کثیر شامی ہے بادہ نام نہیں ہے۔واللہ اعلم! فلسطین مشہور ملک ہے جس میں بیت المقدس واقع ہے یہ علاقہ شام اور اردن سے ملا ہوا ہے اور فلسطین عراق کے ایک شہر کا نام بھی ہے ان راوی کے حالات معلوم نہ ہوسکے۔ ۲؎ فسیلہ ف کے پیش اور سین کے فتح سے،اس کے لغوی معنی ہیں کجھور کا چھوٹا درخت یہ بی بی تابعیہ ہیں، ان کا نام جمیلہ بنت واثلہ ابن اسقع ہے ،حضرت واثلہ صحابی ہیں (تقریب حاشیہ اشعہ)فسیلہ کے حالات معلوم نہ ہوسکے۔ ۳؎ یعنی فسیلہ کے والد حضرت واثلہ ابن اسقع نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ کیا اپنی قوم سے محبت کرنا گناہ ہے یہ بھی تعصب کی ایک قسم ہے۔ ۴؎ یعنی اپنی قوم کی ناحق بات کو حق کہنا اگر وہ دوسری قوم کے آدمی پرظلم کرے تو اس ظالم کی حمایت کرنا صرف اس لیے کہ وہ اپنی قوم کا آدمی ہے یہ ہے تعصب یہ ہی حرام ہے یہ بیماری آج مسلمانوں میں بہت ہی ہے قومی تعصب،صوبائی تعصب بہت ہے اس لیے اس نے مسلمان قوم کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے،سارے مسلمان ایک قوم ہیں خواہ کسی نسب کے ہوں یا کسی ملک کے۔