| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں بنی عامر کے وفد میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۲؎ تو ہم نے کہا کہ آپ ہمارے سید ہیں فرمایا سید تو اللہ ہے ۳؎ ہم نے عرض کیا کہ آپ ہم سب میں بڑی بزرگی والے اور بڑے عطا والے ہیں۴؎ تو فرمایا کہ اپنی یہ بات یا بعض بات کہو اور تم کو شیطان بے باک نہ کردے ۵؎(احمد،ابوداؤد)
شرح
۱؎ مطرف تابعی بصری ہیں،بڑے متقی پرہیزگار تھے، ۸۷ ستاسی میں آپ کی وفات ہوئی،آپ کے والد عبداللہ ابن شخیر صحابی ہیں۔ ۲؎ وفد وہ جماعت کہلاتی تھی جو اپنی ساری قوم کی طرف سے نمائندہ بن کر حضور کی بارگاہ میں حاضر ہوتی تھی اور ایمان قبول کرتی اس کا ایمان ساری قوم کا ایمان ہوتا،حضرت مطرف قبیلہ بنی عامر کے وفد میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ ۳؎ سید بہت معنی میں آتا ہے: سردار،مالک،مولٰی،خاوند،قرآن کریم فرماتاہے:"وَاَلْفَیَا سَیِّدَہَا لَدَا الْبَابِ"وہاں سید بمعنی خاوند ہے ان لوگوں نے حضور انور کو سید بمعنی سردار کہا تھا حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے رب تعالٰی کو سید بمعنی مالک و خالق فرمایا یہ خصوصی ارشاد ہے لہذا ہم لوگ اللہ تعالٰی کو عمومًا سید نہیں کہہ سکتے۔خیال رہے کہ ان حضرات نے حضور انور کو سید کہا لفظ سید ہر سردار پیشوا کو کہا جاتا ہے انہیں چاہیے تھا کہ حضور کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نبی اللہ کہتے یہ خطاب کسی سردار کے لیے نہیں ہوتا اس لیے انہیں نہایت اخلاق کے ساتھ اس سے روک دیا گیا یہ ممانعت اس عارضہ کی وجہ سے ہے لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضور کو سید المرسلین وغیرہ نہ کہاجاوے۔نہ یہ حدیث اس حدیث کے خلاف ہے کہ انا سید ولدادم(ازاشعۃ اللمعات)لہذا خدا تعالٰی کو سید کہنا ہمارے لیے ہر گز جائز نہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو سید المرسلین وغیرہ کہنا جائز ہے۔ ۴؎ طول کے بہت معنی ہیں: دوستوں پر عطا،دشمنوں پر غالب،سنت و عبادت میں زیادتی یہاں بمعنی عطا و غلبہ ہے۔(مرقات و اشعہ)یعنی آپ تمام مخلوق میں زیادہ جواد اور سخی ہیں کفار پر غالب۔ ۵؎ لایستجرمنکم میں بہت احتمال ہیں قوی یہ ہے کہ یہ بنا ہے جرأت سے بمعنی دلیری اور بے باکی۔ استجار کے معنی ہیں دلیر بیباک کردینا یعنی شیطان تم کو میری تعریف میں دلیر نہ کردے کہ تم میری وہ تعریف کرو جو کفر یا شرک ہے جیسے تم مجھے خدا کا بیٹا یا خدا کہنے لگ جاؤ،میری تعریف عبدیت کے دائرے میں کرنا لہذا اس حدیث کے معنی یہ نہیں کہ میرے فضائل ہی بیان نہ کرو حضور کی نعت گوئی ثناء خوانی حضرات صحابہ کرتے تھے حضور سنتے تھے خوش ہوتے تھے ان نعتیہ قصیدوں میں حضور کی ایسی تعریفیں ہوتی تھیں کہ سبحان اللہ! اس جملہ کی یہ ہی شرح مرقات و اشعہ نے کی ہے لہذا اس حدیث سے کوئی دھوکہ نہ کھائے، دن رات حضور کی نعت پڑھے حمد باری سنت رسول اللہ سنیت الہیہ ہے،رب تعالٰی نے قرآن مجید میں حضور کی بہت نعت فرمائی ہے۔اعلٰی حضرت نے فرمایا ؎ حی و باقی جس کی کرتا ہے ثنا مرتے دم تک اسکی مدحت کیجئے جس کا حسن اللہ کو بھی بھاگیا اس پیارے سے محبت کیجئے