Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
729 - 975
الفصل الثانی

دوسر ی فصل
حدیث نمبر 729
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا قومیں اپنے مرے ہوئے باپ داداؤں پر فخر کرنے سے باز آجائیں جو باپ دادے دوزخ کے کوئلے ہیں ۱؎ ورنہ وہ اللہ  پر اس گندگی کے کیڑے سے زیادہ ذلیل ہوجائیں گے جو اپنی ناک میں گندگی لگاتا ہے ۲؎  یقینًا اللہ نے تم سے جاہلیت کا تکبر دور فرمایا اور باپ داداؤں پر فخر دور فرمادیا ۳؎  انسان یا مؤمن متقی ہے یا کافر بدنصیب ہے۴؎  سارے لوگ حضرت آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے ہیں ۵؎ (ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی اگر تمہارے باپ دادے کافر تھے تو وہ یقینی دوزخ کے کوئلے ہیں اگر مؤمن تھے تو ممکن ہے کہ ان کا خاتمہ خراب ہوا ہو اور وہ دوزخ کے کوئلے بن چکے ہوں ان کے خاندان پر فخر کرنا بڑی ہی حماقت ہے اگر فخر کرو تو حضور کے امتی ہونے پر کہ اللہ تعالٰی نے ہم گنہگاروں کو ان کا دامن نصیب فرمایا۔

بریں نازمہ کہ ہستم امت تو 		گنہگار مہ ولیکن خوش نصیمہ

۲؎ جعل ج کے پیش ع کے فتحہ سے گندگی کا کیڑا جسے عرب خنفساء کہتے ہیں اردو والے گبریلہ۔یدھدہ بنا ہے دبدھۃ سے بمعنی لوٹنا،خراء پاخانہ یعنی جیسے گبریلہ کیڑا گندگی میں لوٹتا اسے اپنی منہ ناک پر ملتا ہے اور خوش ہوتا ہے مگر دنیا اس سے گھن کرتی ہے یہ ہی تمہارا حال ہوجاوے گا کہ تم اکڑ میں رہو گے دنیا تمہیں ذلیل سمجھے گی۔

۳؎ یعنی زمانہ جاہلیت میں لوگ باپ داداؤں پر فخرکرتے تھے اللہ تعالٰی نے تمہیں اسلام کی توفیق دے کر تم سے یہ عیب دور فرمادیا۔ 

۴؎  اس سے معلوم ہوا کہ انسان دو ہی قسم کے ہیں یا مؤمن یا کافر درمیان میں درجہ کوئی نہیں جو نہ مؤمن ہو نہ کافر۔

۵؎ سبحان اللہ! کس پاکیزہ طریقہ سے سمجھایا کہ کسی کی پیدائش سونے چاندی سے نہیں ہے سب مٹی سے پیدا ہوئے ہیں پھر فخر کیسا اور تکبر کس چیز پر ہاں اعمال اچھے کرو اچھے ہوجاؤ گے۔
Flag Counter