| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم تربوز کھجور کے ساتھ کھاتے تھے۔ (ترمذی) اور ابوداؤد نے یہ زیادہ فرمایا کہ فرماتے تھے اس کی گرمی اس کی ٹھنڈک سے ٹوٹ جائے گی اور اس کی ٹھنڈک اس کی گرمی سے،ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے۔
شرح
۱؎ جس سے تربوز تو کھجور سے میٹھا ہوجاتا اور کھجور تربوز سے تر ہوجاتی تھی،نیز تربوز ٹھنڈا ہے کھجور گرم، دونوں مل کر معتدل ہوجاتے تھے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ بطیخ اصغر خربوزہ کو کہتے ہیں اور بطیخ اخضر تربوز کو،یہاں بطیخ اخضر یعنی تربوز مراد ہےلیکن تربوز ہی ٹھنڈا ہوتا ہے خربوزہ تو خود گرم ہے۔بعض شارحین نے اس کے معنی خربوزہ کئے مگر قوی وہ ہی ہے۔