Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
72 - 975
حدیث نمبر 72
روایت ہے حضرت سعد سے ۱؎  فرماتے ہیں میں بیمار ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم میری عیادت کو تشریف لائے۲؎ اپنا ہاتھ مرے پستانوں کے بیچ رکھا حتی کہ میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے دل پر پائی ۳؎  اور فرمایا کہ تم دل کے بیمار ہو حارث ابن کلدہ ثقفی کے پاس جاؤ وہ طبابت کرتے ہیں۴؎  وہ مدینہ کی عجوہ میں سے ساتھ عجوہ کھجوریں لیں انہیں معہ گٹھلیوں کے کوٹ لیں اور پھر ان سے تم کو پلادیں ۵؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎  یہاں سعد سے مراد حضرت سعد ابن ابی وقاص ہیں جو عشرہ مبشرہ سے ہیں،یہ واقعہ فتح مکہ کے سال کا ہے،اس وقت آپ مکہ معظمہ میں تھے آپ سخت بیمار ہوگئے تھے۔(مرقات)

۲؎  حضور انور اپنی جائے قیام سے میری جائے قیام پر صرف میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔معلوم ہوا کہ اپنے خدام کی مزاج پرسی بیمار پرسی کے لیے ان کے گھرجانا سنت ہے۔

۳؎  حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کے ہاتھ مبارک قدرتی طور پر قدرے ٹھنڈے تھےجن سے دوسرے کو نہایت خوشگوار ٹھنڈک محسوس ہوتی تھی،چونکہ حضرت سعد کو دل کی بیماری تھی اس لیے حضور انور نے بیماری کی جگہ ہاتھ رکھا۔معلوم ہوا کہ مرض کی جگہ ہاتھ رکھنا عیادت کے لیے سنت ہے۔فواد دل کو بھی کہتے ہیں دل کے پردے کو بھی اور سینہ کو بھی جو دل کا مقام ہے،یہاں غالبًا بمعنی سینہ ہے۔

دل کرو ٹھنڈا مرا وہ کف پاچاند سا 	سینہ پہ رکھ دو ذرا تم پہ کروڑوں درود

مبارک ہے وہ بیماری جس میں ایسے تیماردار امت کے غم خوار چل کر مریض کے پاس آویں۔

سر بالیں انہیں رحمت کی ادا لائی ہے	 حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے

اب بھی بعض بزرگوں نے اپنی بیماری میں حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم کی جاگتے ہوئے زیارت کی ہے کہ حضور نے ان کی تیمارداری و عیادت فرمائی۔سبحان اللہ! 

۴؎  اس سے معلوم ہوا کہ کافر طبیب سے علاج کرانا جائز ہے کیونکہ حارث ابن کلدہ مکہ معظمہ میں مشہور طبیب تھا مگر کافر تھا اس کا اسلام ثابت نہیں۔(اشعۃ اللمعات)مگر حیرت یہ ہے کہ مرقات نے فرمایا کہ یہ واقعہ فتح مکہ کے سال ہوا اور اشعۃ اللمعات میں فرمایا کہ حارث ابن کلدہ شروع اسلام میں فوت ہوا کافر مرا مسلمان نہ ہوا۔اس سے معلوم ہو اکہ یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ماہر طبیب سے علاج کرانا چاہیے جو فن طبابت میں مہارت رکھتا ہو ورنہ نیم حکیم خطرہ جان۔اور تجربہ بھی رکھتا ہو یہ کام کرتا بھی ہو۔یتطیب سے بہت مسائل حل ہوگئے۔

۵؎  اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ احادیث شریفہ کی تجویز فرمائی ہوئی دوائیں کسی طبیب کی رائے سے استعمال کرنا چاہئیں جو ہمارے مزاج،موسم،دوا کی تاثیر،ہمارے مرض کی کیفیت سے خبردار ہو۔ دوسرے یہ کہ بعض دوائیں طبیب ہی کے ہاتھ سے استعمال کرنی چاہیے۔آج ڈاکٹر ہی ٹیکہ تجویز کرتے ہیں وہ ہی لگاتے ہیں،دیکھو حضور انور نے دوا تجویز فرمادی مگر استعمال کے لیے طبیب کے پاس بھیجا۔تیسرے یہ کہ عجوہ کھجور اور اس کی گٹھلی میں بہت فوائد ہیں۔ان سے دل کی دھڑکن،دل کی کمزوری بھی دور ہوتی ہے اور چند فوائد پہلے بیان ہوچکے کہ یہ زہر اور سحر کے لیے مفید ہے۔لیلدك بنا ہے لدٌ سے جس کے معنی ہیں بیمار کے منہ میں قطرہ ٹپکانا یا اس کے تالو میں کوئی چیز لیپ دینا جس سے وہ بہ آسانی اسے نگل لے۔
Flag Counter