۱؎ لا تطرو بنا ہے اطراء سے بمعنی مبالغہ کرنا،جھوٹی تعریف کرنا،حد سے بڑھانا یعنی مجھے خدا یا خدا کا بیٹا یا خدا تعالٰی کا رشتہ دار عزیز نہ کہو کہ یہ چیزیں ہم جنسوں میں ہوتی ہیں رب تعالٰی جنس سے پاک ہے،یہاں خاص مبالغہ کی ممانعت ہے یعنی جس قسم کا مبالغہ عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں کیا تم میرے بارے میں وہ نہ کرو۔
۲؎ اس کے معنی یہ نہیں کہ تم مجھے عبداللہ و رسولہ کے سوا اور کچھ نہ کہو نہ شفیع المذنبین کہو نہ رحمۃ اللعالمین کہو بلکہ مطلب یہ ہے کہ میری وہ صفات بیان کرو جو عبدیت کے ماتحت ہوں الوہیت والی صفات مت بیان کرو لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں انا سید ولد ادم یا جیسے انا خطبھم اذا صمتوا یہ حدیث قرآن کریم کی آیات نعت کے خلاف ہے،رب فرماتاہے:"یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ شٰہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا وَّ دَاعِیًا اِلَی اللہِ بِاِذْنِہٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیۡرًا"۔حق یہ ہے کہ سواء ابن اللہ وغیرہ کے جو تعریف کرسکتے ہو کرو امام بوصیری فرماتے ہیں۔
دع ما ادعتہ النصاری فی نبیھم واحکم بماشئت من شرف ومن عظم
فان فضل رسول اللہ لیس لہ حد فیعرب عنہ ناطق بفم
نبی کریم کو ابن اللہ وغیرہ نہ کہو باقی جو کہہ سکتے ہو کہو کہ ہمارے الفاظ محدود ہیں حضور انور کے صفات غیر محدود ، ساری دنیا ساری عمر حضور کے صفات بیان کرے سمندر کا قطرہ بیان نہیں ہوسکتا کہ غیر محدود کو محدود کیسے بیان کرے،ہمارے الفاظ محدود ہیں ۲۸ حرفوں میں حضور کی صفات لامحدود ہیں۔سبحا ن اللہ! فیصلہ کردیا ۔