| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت براء ابن عازب سے وہ حنین کے متعلق فرماتے ہیں ۱؎ کہ ابو سفیان ابن حارث آپ کے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے خچر کی لگام پکڑے ہوئے تھے ۲؎ تو جب مشرکین نے آپ کو گھیر لیا تو آپ اترے کہنے لگے میں جھوٹا نبی نہیں میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۳؎ فرماتے ہیں اس دن حضور سے زیادہ کوئی بہادرنہیں دیکھا گیا ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ حنین مکہ معظمہ اور طائف کے درمیان ایک وسیع پتھریلا علاقہ ہے،اس فقیر نے اس میدان کی زیارت کی ہے،فتح مکہ کے بعد یہ غزوہ واقع ہوا قبیلہ ہوازن سے یہ جنگ ہوئی۔ ۲؎ یہ ابوسفیان ابن حارث ابن عبدالمطلب ہیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے چچا زاد بھائی اور حضور کے اخیافی بھائی کہ حلیمہ دائی بنت ذویب سعدیہ کا دودھ انہوں نے بھی پیا ہے،بڑے شاعر تھے،زمانہ کفر میں حضور انور کے خلاف انہوں نے بہت اشعار لکھے تھے جن کے جواب حضرت حسان نے دیئے تھے،پھر اللہ نے اسلام کی توفیق دی تو بعد اسلام کبھی حضور کے سامنے سر نہ اٹھایا شرم کی وجہ سے،فتح مکہ کے سال مسلمان ہوئے،حضرت علی مرتضیٰ نے ان سے کہا تھا کہ حضور کے سامنے جا کھڑا ہوؤ اوریہ آیت پڑھو"تَاللہ لَقَدْ اٰثَرَکَ اللہ عَلَیۡنَا وَ اِنۡ کُنَّا لَخٰطِئِیۡنَ"چنانچہ انہوں نے یہ ہی کہا،حضور انور نے فرمایا:"لَا تَثْرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الْیَوْمَ"۔ ۲۰ھ میں وصال ہوا،عقیل ابن ابی طالب کے گھر میں دفن ہوئے حضرت عمر فاروق نے نماز پڑھائی یہ ابوسفیان وہ نہیں جو امیر معاویہ کے والد ہیں وہ تو ابوسفیان ابن حرب ابن صخر اموی ہیں۔(مرقات) ۳؎ غزوہ حنین میں اولًا مسلمانوں کو ہزیمت ہوگئی تھی قبیلہ ہوازن و غطفان نے حضور انور کے خچر کو گھیر کر حضور پر حملہ کرنا چاہا تب آپ خچر سے اترے اور تلوار سونت کر یہ فرمایا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور کے دادا حضرت عبدالمطلب رضی اللہ عنہ مؤمن بھی ہیں بہادربھی آپ کی اولاد بہادری میں مشہور بھی ہے، حضور انور نے ان کے اولاد ہونے پر فخر فرمایا،یہ فخرکفار کے مقابلہ میں اظہار شجاعت کے لیے تھا لہذا بالکل درست تھا۔مشرک باپ داداؤں پر فخرجائز نہیں اگر عبدالمطلب کافر مشرک ہوتے تو حضور ان کی اولاد ہونے پر فخر نہ فرماتے،از آدم علیہ السلام تا حضرت عبداللہ حضور کے تمام آباؤ اجداد کفر اور زنا سے محفوظ رہے۔ ۴؎ یعنی حضور کی شجاعت کے جوہر آج دیکھے گئے کہ ایسے نازک موقعہ پر بجائے بھاگنے کے سواری سے اتر کر پیدل ہولیے تلوار سونت کر ان ہزاروں کے مقابلہ میں اکیلے آگئے۔شعر وہ موقعہ جب فضاءآسمان بھی تھرتھراتی تھی محمد تھے کہ ان کے پاؤں میں لغزش نہ آتی تھی