Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
723 - 975
باب المفاخرۃ و المعصبیۃ

فخر اور تعصب کا بیان ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  ایک دوسرے پر ذاتی بڑائی ظاہر کرنا کہ میں تجھ سے اونچا ہوں یہ ہے تفاخر،یہ کفار کے مقابل یا ضرورت کے وقت مسلمان سے بھی کرسکتے ہیں جبکہ اس میں دینی مصلحت ہو۔نفسانی فخر حرام ہے کہ یہ تکبر ہے اور تکبر حرام ۔تعصب بنا ہے عصب سے بمعنی قوت۔ اصطلاح میں جماعت میں کنبہ و قوم کو عصب کہاجاتا ہے۔قرآن کریم میں ہے "وَنَحْنُ عُصْبَۃٌ"۔تعصب کے معنی ہیں اپنے کنبہ،اپنی قوم،اپنے دھڑے کی حمایت کرنا اگر حق حمایت ہے تو جائز ہے ناحق ہے تو حرام ہے۔
حدیث نمبر 723
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں کون زیادہ عزت والا ہے ۱؎  فرمایا سب میں عزت والا  اللہ کے نزدیک ان میں بڑا پرہیزگار ہے ۲؎  بولے اس کے متعلق ہم نہیں پوچھتے فرمایا تو لوگوں میں بڑے اشرف یوسف ہیں اللہ کے نبی اورنبی اللہ کے بیٹے وہ خلیل اللہ کے بیٹے۳؎  وہ بولے ہم اس کے متعلق آپ سے نہیں پوچھتے فرمایا تو کیا عرب کے قبیلوں کے متعلق تم مجھ سے پوچھتے ہو۴؎  بولے ہاں فرمایا تم میں سے جو جاہلیت میں بہتر تھے وہ اسلام میں بھی بہترین ہیں جب کہ عالم ہوجاویں ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ اللہ کے نزدیک یا دنیا و آخرت میں کون محترم ہے۔

۲؎ چنانچہ قرآن کریم فرماتاہے:"اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنۡدَ اللہِ اَتْقٰىکُمْ"۔خیال رہے کہ انسان کیلئے تقویٰ ذاتی شرافت وعزت ہے اسے حسب کہتے ہیں اور عالی خاندان عارضی عزت ہے اسے نسب کہتے ہیں مبارک ہے وہ جو حسب و نسب دونوں میں اعلیٰ ہو۔

۳؎  یعنی یوسف علیہ السلام حسب و نسب دونوں میں بہت اعلیٰ ہیں کہ خود بھی نبی ہیں یہ ان کی حسبی عظمت ہے ان کے تین پشت میں نبوت ہے کہ والد نبی دادا  پردادا نبی یہ ان کی نسبی شرافت ہے یہ ان کی خصوصیت ہے جیسے حضرات صحابہ میں ابوبکر صدیق کہ حسبی اشرف بھی ہیں کہ صدیق ہیں نسبی اشرف بھی کہ آپ کی چار پشتوں میں صحابیت ہے خود صحابی ماں باپ  اولاد صحابی پوتے نواسے صحابی یہ آپ کی خصوصیت ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام میں نبوت،علم،عالی نسبی جود و سخا،عدل دین دنیا کی ریاست جمع ہیں۔

۴؎  معادن جمع ہے معدن کی بمعنی کان،قبیلہ کو معدن کہتے ہیں کہ وہ ایک جماعت کی کان ہوتا ہے یعنی کیا تم مجھ سے عرب کے قبائل کے متعلق پوچھتے ہو کہ کونسا قبیلہ اشرف ہے۔ 

۵؎  یعنی اسلام لانے سے اعلیٰ خاندانی آدمی کی شرافت گھٹ نہیں جاتی بلکہ بڑھ جاتی ہے اور اگر وہ عالم باعمل بھی ہوجاوے تو صرف خاندانی مسلمان سے افضل ہوگا۔خلاصہ یہ ہے کہ جو زمانہ کفر میں اپنی قوم میں اعلیٰ و افضل ہو وہ مسلمان ہوکر بھی اعلیٰ و افضل ہی رہے گا اسے نو مسلم یا دیندار سمجھ کر ذلیل نہ سمجھا جاوے گا۔اگر وہ عالم باعمل بھی ہوجاوے تو اس کی شرافت کو اور چار چاند لگ جاویں گے مثلًا آج کوئی بڑا عزت والا پادری یا پنڈت مسلمان ہوجاوے تو اسے نو مسلم یا دیندار کہہ کر حقیر نہ جانو اس کی عزت و احترام باقی رکھو اور اگر وہ عالم ہوجاوے تو اس کا بہت احترام کرو یہاں فقہ سے مراد عالم باعمل ہے،پھر بھی مطلب وہ ہی ہوا کہ شرافت علم و تقویٰ پر ہے غرضکہ حسب ونسب دونوں کی شرافت کا اجتماع رب کی رحمت ہے۔
Flag Counter