| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عباس سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا اپنے بھائی سے نہ جھگڑا کرو نہ اس کا مذاق اڑاؤ ۱؎ نہ اس سے کوئی وعدہ کرو جو خلاف کرو ۲؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ آپس کا مذاق جس سے ہر ایک کا دل خوش ہو یہ چند شرطوں سے جائز ہے جیساکہ عرض کیا جاچکا ہے مگر کسی کا مذاق اڑانا جس سے سامنے والے کو تکلیف پہنچے بہرحال حرام ہے وہ ہی یہاں مرادہے کیونکہ مسلمان کو ایذاء دینا حرام ہے۔ ۲؎ یہاں وعدے سے وہ وعدہ مراد ہے جو جائز ہو،بعض فقہاء کے نزدیک ایساوعدہ پوراکرنا واجب ہے،اکثر کے ہاں مستحب ہے اگر وعدہ کے وقت ان شاءاللہ کہہ دیاجاوے تو سب کے نزدیک اس کا پوراکرنا مستحب ہے۔