Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
721 - 975
حدیث نمبر 721
روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱؎  فرماتے ہیں اجازت مانگی حضرت ابوبکر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے تو حضرت عائشہ کی آواز سنی بلند ۲؎  تو جب آئے تو انہیں پکڑا تاکہ طمانچہ مار دیں اور فرمایا میں تم کو نہ دیکھوں کہ تم اپنی آواز نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر اونچی کرتی ہو۳؎  تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کو روکنے لگے۴؎  اور حضرت ابوبکر ناراض ہوکر چلے گئے ۵؎ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب کہ ابوبکر صدیق چلے گئے بولو تم نے مجھے کیسا دیکھا میں نے تم کو ان صاحب سے بچالیا ۶؎  راوی کہتے ہیں کہ پھر کچھ دن حضرت ابوبکر ٹھہرے پھر اجازت مانگی ۷؎  تو ان دونوں حضرات کو صلح محبت میں پایا ان سے عرض کیا کہ مجھے اپنی صلح صفائی میں داخل کرلو ۸؎  جیسے تم نے مجھے ا پنی لڑائی میں داخل کیا تھا ۹؎  تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہم نے کرلیا ہم نے کرلیا ۱۰؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ کے حالات زندگی بارہا بیان ہوچکے کہ آپ اسلام میں پہلے فرزند ہیں جو اسلام میں پیدا ہوئے،حضور انور کی وفات کے وقت آپ کی عمر آٹھ سال سات ماہ کی تھی،آپ کے والدین صحابی ہیں،بقیہ حالات بیان کیے جاچکے ہیں۔

۲؎  یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو کسی بات کا جواب بلند آواز سے دے رہی تھیں یا بے پرواہی میں یا غصہ میں محبوب کا غصہ بھی پیارا ہوتا ہے اسی لیے اس پر قرآن کریم میں عتاب نہیں آیا ورنہ قرآن کریم فرماتا ہے:"لَا تَرْفَعُوۡۤا اَصْوٰتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ"۔

۳؎ اس جملہ کی روایت تین طرح ہے: لا اراك میں تم کو دیکھ رہا ہوں،لا اراك میں تم کو آئندہ نہ دیکھوں،لا اراك کیا میں تم کو نہیں دیکھتا دوسری روایت قوی تر ہے کہ یہ کلمہ نہیں ہے اور مطلب یہ ہے کہ آپ نے گزشتہ پر سزا دینے کے لیے طمانچہ مارنا چاہا اور آئندہ کے لیے منع فرمایا یہ طمانچہ اس تادیب میں سے ہے جو والدین اپنی اولاد کو کیا کرتے ہیں۔مرقات نے فرمایا کہ یہ کلمہ دعا ہے یعنی خدا کرے میں تم کو حضور کے سامنے اونچی آواز کرتے نہ دیکھوں۔

۴؎  یا اس طرح کہ حضور انور نے حضرت صدیق کو پکڑ لیا کہ وہ نہ ماریں یا اس طرح کہ حضور انور دونوں کے درمیان آ ڑ ہوگئے کہ حضرت صدیق و صدیقہ کے درمیان کھڑے ہوگئے۔

۵؎  حضرت عائشہ صدیقہ پر ناراض ہوکر گھر سے باہر چلے گئے یہ ناراضگی بھی عبادت ہے۔

۶؎  خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے یہاں من ایک نہ فرمایا الرجل فرمایا یعنی بہادر مرد جسے اللہ رسول کے لیے تم پر غصہ آیا یہ غصہ ان کی بہادری کی علامت ہے۔(مرقات)

۷؎  یعنی کچھ روز حضرت عائشہ صدیقہ کے گھر نہ آئے یا اتفاقًا یا حضرت صدیقہ پر ناراضگی کی وجہ سے،پہلا احتمال قوی ہے پھر حاضر ہوئے شاید تین روز کے بعد حاضر ہوئے۔

۸؎  صلح سے مراد پیارومحبت ہے اور حرب سے مراد وہ ناراضگی جو زوجین کی آپس میں ہو جاتی ہے یہ ناراضگی بھی زیادہ محبت کی بنا پر ہوتی ہے۔

۹؎  ادخال کی نسبت حضور کی طرف سبب کی بنا پر ہے یعنی آپ دونوں کی شکر رنجی میرے اس معاملہ میں دخل دینے کا باعث بنی۔

۱۰؎  حضور انور نے فعلنا دو بار فرمایا ایک بار اپنی طرف سے دوسری بار جناب عائشہ صدیقہ کی طرف سے یعنی میں نے اور تمہاری لخت جگر نورنظر عائشہ صدیقہ نے بھی اپنی صلح میں داخل کرلیا اس طرح کہ تم ہمیشہ کے لیے ہمارے ہر کام میں دخیل ہوگئے ہمارے گھر کے تم کار مختار ہوگئے رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔اس حدیث کو باب المزاح میں صرف ایک جملہ کی وجہ سے لایا گیا کہ عائشہ دیکھا ہم نے تم کو کیسا بچایا۔
Flag Counter