روایت ہے ابوہریرہ سے فرماتے ہیں صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ آپ ہم سے خوش طبعی فرماتے ہیں ۱؎ فرمایا ہم نہیں کہتے مگر سچی بات ۲؎(ترمذی)
شرح
۱؎ یعنی آقا حضور دونوں جہاں کے والی ہیں ہم لوگ نوکر چاکر حضور کے خدام ہیں،ہم جیسوں سے حضور انور کا خوش طبعی فرمانا حیرت در حیرت ہے یا مطلب یہ ہے کہ وہ حضرت خوش طبعی کو ناجائز سمجھتے تھے تب یہ عرض کیا۔ ۲؎ یعنی وہ دل لگی و مذاق حرام ہے جس میں جھوٹ بولا جاوے یا کسی کو ذلیل کیا جاوے ہماری خوش طبعی میں یہ دونوں باتیں نہیں ہوتی لہذا یہ جائز ہے۔خیال رہے کہ ہر وقت دل لگی و مذاق ہیبت دورکر دیتا ہے اس لیے کبھی کبھی شاذ و نادر ہی چاہے۔