۱؎ مزاح میم کے پیش سے بھی آتا ہے میم کے کسرہ سے بھی،میم کے پیش سے ہو تو خوش دلی کی بات مراد ہوتی ہے،میم کے کسرہ سے دل خوش بات کرنا۔ایسی بات جس سے اپنا اور سننے والے کا دل خوش ہوجاوے مزاح ہے اور جس سے دوسرے کو تکلیف پہنچے جیسے کسی کا مذاق اڑانا سخریہ ہے۔مزاح اچھی چیز ہے سخریہ بری بات ہے۔جن احادیث میں ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے مزاح سے منع فرمایا وہاں سخریہ مراد ہے یا ہمیشہ دل لگی کرتے رہنا ہنستے ہنساتے رہنا کہ اس سے دل مردہ ہوتا ہے غفلت طاری ہوجاتی ہے لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے کبھی کبھی خوش طبعی کرنا ثابت ہے جیساکہ اس باب میں آوے گا اسی لیے علماءکرام فرماتے ہیں کہ کبھی کبھی خوش طبعی کرنا سنت مستحبہ ہے۔
حدیث نمبر 714
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہم میں گھلے ملے رہتے تھے ۱؎ حتی کہ میرے بھائی سے کہتے تھے ۲؎ کہ ابو عمیر چڑیا کیا ہوئی ۳؎ اون کی ایک چڑیا تھی جس سے وہ کھیلتے تھے وہ مر گئی ۴؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ بعض روایات میں ہے لیخا طبنا یعنی ہم سے کلام فرماتے تھے۔ ۲؎ ابو عمیر حضرت انس کے چھوٹے بھائی تھے اخیافی،ان کے باپ کا نام زید ابن سہیل تھا،کنیت ابو طلحہ،ابو عمیر کا نام کبشہ تھا۔(مرقات) ۳؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ نغیر بلبل کا نام ہے مگر تحقیق یہ ہے کہ کوئی اور چڑیا ہے جس کی چونچ سرخ ہوتی ہے حضور کا یہ فرمان حضرت ابو عمیر کو تسکین دینے یا ان کا دل بہلانے کے لیے تھا۔ ۴؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ چڑیا پالنا اسے پنجرے میں رکھنا اس سے بچوں کا کھیلنا جائز ہے بشرطیکہ اس کے دانہ پانی آرام کا خیال رکھے۔دوسرے یہ کہ حرم مدینہ میں شکار کرنا درست ہے ورنہ چڑیا کا پنجرہ میں رکھنا بھی حرام ہوتا جیساکہ حرم مکہ کا حال ہے کہ وہاں نہ تو شکار کرنا درست ہے نہ شکار کو پنجرے وغیرہ میں رکھنا درست۔تیسرے یہ کہ معلوم بات کا پوچھنا کسی اچھے مقصد کے لیے درست ہے۔حضور کو خبر تھی کہ چڑیا مرگئی پھربھی پوچھ رہے کہ چڑیا کیا ہوئی۔چوتھے یہ کہ بچوں سے خوش طبعی کرنا ان کا دل بہلانے کے لیے جائز ہے،پانچویں یہ کہ ہم وزن نام بولنا درست ہے جیسے حضور انور نے فرمایا ابو عمیر،نغیر۔خیال رہے کہ کبوتر پالنا درست ہے کبوتر بازی حرام ہے۔