۱؎ یعنی دو مسلمانوں نے آپس میں وعدہ کیا کہ ہم فلاں وقت فلاں جگہ ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے وہاں آجانا۔
۲؎ یعنی ان دونوں سے ایک آدمی تو وقت پر پہنچ گیا دوسرا نہ پہنچا کہ وقت نماز آگیا یہ پہنچ جانے والا نماز کو چلا گیا پھر اس کے پیچھے دوسرا آیا تو وہ نماز کو چلا جانے والا گنہگار نہیں ہوا وہ اپنے وعدہ پر پہنچ گیا تھا۔خیال رہے کہ وہ جو حدیث شریف میں گزرا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک وعدے کے موقعہ پر تین دن ایک ہی جگہ قیام فرمایا وہ واقعہ فرضیت نماز بلکہ ظہور نبوت سے پہلے کا ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ وعدہ پورا کرنا مستحب ہے،نماز فرض ہے،جماعت مستحب کے لیے فرض یا واجب نہیں چھوڑا جاسکتا۔