Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
712 - 975
حدیث نمبر 712
روایت ہے حضرت عبداللہ بن عامر سے ۱؎ فرماتے ہیں مجھے میری ماں نے ایک دن بلایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے گھر تشریف فرما تھے وہ بولیں آتجھے دوں گی۲؎ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تم انہیں کیا دینا چاہتی ہو۳؎ بولیں میں نے اسے کھجوریں دینے کا ارادہ کیا تب ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا آگاہ رہو اگر تم اسے کچھ نہ دیتیں تو تم پر جھوٹ لکھا جاتا ۴؎(ابوداؤد،بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ آپ عبداللہ ابن عامر ابن کریز ابن حبیب ابن عبدشمس ابن عبدمناف ہیں،قرشی ہیں،جناب حضرت عثمان غنی کے ماموں ہیں،تیرہ برس کی عمر شریف میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت کی ہے،خلافت عثمانی میں بصرہ خراسان کے حاکم رہے،امیر معاویہ نے آپ کو اس عہد پر قائم رکھا،خراسان کے فاتح آپ ہی ہیں فارس، اصفہان،کرمان،حلوان وغیرہ آپ نے ہی فتح کیے،بصرہ کی نہر آپ نے ہی کھدوائی،بڑے عالم سخی عابد تھے       ۵۹؁  انسٹھ میں وفات پائی۔(مرقات واشعہ)

۲؎ چھوٹے بچے ضدکرکے گھر سے بھاگ جاتے ہیں جب ماں کچھ دینے کا بہانہ کرکے بلاتی ہے تب آتے ہیں یہ ہی واقعہ یہاں ہوا تھا۔

۳؎  یعنی تم نے جو کہا کہ تجھے کچھ دوں گی یہ جملہ خبریہ ہے جس میں سچ کا بھی احتمال ہے جھوٹ کا بھی بتاؤ تم اس بچہ کو کچھ دو گی یا نہیں اگر دینا نہیں ہے تو یہ کلام جھوٹا ہوا۔

۴؎  یہ فرمان عالی بہت ہی سبق آموز ہے کہ ماں چھوٹے بچوں کو جھوٹے بہانے سے نہ بلائے غلط خبر نہ دیں کہ یہ بھی جھوٹ ہے۔
Flag Counter