| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت زید ابن ارقم سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی جب کوئی شخص اپنے بھائی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت پورا کرنے کی ہو پھر پورا نہ کرسکے وعدہ پر نہ آسکے تو ا س پر گناہ نہیں ۱؎(ابوداؤد ،ترمذی)
شرح
۱؎ جائز وعدہ پورا کرنا عام علماء کے نزدیک مستحب ہے وعدہ خلافی مکروہ،بعض علماء کے نزدیک ایفاء وعدہ واجب ہے وعدہ خلافی حرام ہے یہ حدیث ان ہی حضرات کی دلیل ہے۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر وعدہ کرنے والا پورا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو مگر کسی عذر یا مجبوری کی وجہ سے پورا نہ کرسکے تو وہ گنہگار نہیں،یوں ہی اگر کسی کی نیت وعدہ خلافی کی ہو مگر اتفاقًا پورا کردے تو گنہگار ہے اس بدنیتی کی وجہ سے ہر وعدہ میں نیت کو بڑا دخل ہے۔