Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
708 - 975
باب الوعد

وعدے کاباب  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  لغت میں اچھی چیز کی امید دلانے یا بری چیز سے ڈرانے ان دونوں کو وعدہ کہا جاتا ہے۔اصطلاح میں کسی چیز کی امید دلانے کو وعدہ کہتے ہیں،بری چیز سے ڈرانے کو وعید۔میں تم کو کچھ دوں گا وعدہ ہے،تم کو سزا دوں گا وعید ہے۔یہاں وعدہ اصطلاحی مراد ہے خلاف وعدہ کرنا جھوٹ ہے  خلاف وعید کرنا معافی،وعدہ خلافی بری چیز ہے معافی اچھی چیز ہے۔
حدیث نمبر 708
روایت ہے جابر سے فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وفات پائی اور حضرت ابوبکر کے پاس علاء بن حضرمی کے پاس سے مال آیا ۱؎  تو جناب ابوبکر نے اعلان فرمایا کہ جس کا نبی صلی اللہ علیہ و سلم پر کچھ قرض ہو یا اس سے حضور کا کوئی وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے ۲؎ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے وعدہ فرمایا تھا کہ مجھے اتنا اور اتنا اور اتنا دیں گے ۳؎ آپ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے تھے۴؎ حضرت جابر کہتے ہیں کہ جناب صدیق نے مجھے ایک لپ بھردیا ۵؎ میں نے گنا تو وہ پانچ سو تھے فرمایا اس کے دوگنے اور لے لو ۶؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  علاء ابن حضرمی صحابی ہیں،حضر موت کے رہنے والے ان کا نام عبداللہ ہے،حضور انور نے انہیں یمن کا حاکم مقرر فرمایا عہد صدیقی وفاروقی میں بھی اسی عہدے پر رہے حتی کہ      ۱۴؁ چودہ ہجری میں آپ کی وفات ہوئی،یہاں یمن سے مال آنے کا ذکر ہے۔(مرقات)

۲؎ اور ہم سے حضور کا قرض وصول کرے حضور کا وعدہ پورا کرائے۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ وعدہ مثل قرض کے ہے۔دوسرے یہ کہ مرحوم کی طرف سے اس کے قرض ادا کردینا اس کے وعدے پورے کرنا سنت ہے خواہ کوئی میت کا عزیز کرے یا کوئی اور اس وجہ سے حضرت صدیق باغ فدک کی آمدنی حضور کے اہل پر خرچ کرتے تھے۔(مرقات)

۳؎  یعنی تم کو تین لپ بھر کر درہم دینار عطا فرمائیں گے یہ وعدہ عطیہ خسروانہ عنایت شاہانہ کے طور پر تھا۔

۴؎  یعنی حضور انور نے اپنے لپ بھر کر عطا کا وعدہ فرمایا تھا نہ کہ میرے لپ بھر کر۔

۵؎  معلوم ہوا کہ حضور کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کا ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا دستِ کرم تھا کہ حضور انور نے اپنے لپ بھر دینے کا وعدہ فرمایا تھا حضرت صدیق اکبر نے اپنا ہاتھ بھر کر انکی جھولی میں ڈالا تھا۔

۶؎ آپ نے خود تین لپ بھر کر نہ دیئے تاکہ اصل اور نائب کے لپ میں فرق رہے۔خیال رہے کہ آپ نے حضرت جابر سے اس وعدہ پر گواہی نہیں مانگی نہ قسم لی کیونکہ معاملات میں گواہی منکر کے مقابل ہوتی ہے یہاں کوئی منکر تھا نہیں اور حضرات صحابہ ثقہ عادل ہیں ان کے قول بغیر قسم قبول ہیں،وہ حضرات حضور سے احادیث روایت کرتے ہیں تو ان پر نہ جرح ہوتی ہے نہ ان سے قسم لی جاوے۔اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی میراث کی تقسیم نہیں ورنہ حضرت جابر جناب فاطمہ زہراہ حضرت عباس سے یہ وعدہ پورا کراتے۔دوسرے یہ کہ جو ذاتِ کریم ایسی دیانتدار ہو وہ خلافت جیسی اہم چیز کبھی غصب نہیں کرسکتی حضرت صدیق اکبر خلیفہ برحق ہیں،دیانتدار ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سچے جانشین اسلام کے پہلے تاجدار ہیں۔
Flag Counter