Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
707 - 975
حدیث نمبر 707
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے غیبت کے کفارہ میں سے یہ ہے کہ تو اس کے لیے دعاءمغفرت کرے جس کی تو نے غیبت کی ہے،کہے کہ الٰہی ہم کو اور اس کو بخش دے ۱؎(بیہقی دعوات کبیر)اور بیہقی نے فرمایا کہ اس حدیث کی اسناد میں ضعف ہے۔
شرح
۱؎ اس فرمان عالی کے بہت معنی کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ اگر غیبت کی خبر غیبت والے کو پہنچ گئی تب تو وہ حق العبد بن گئی اس سے جاکر معافی مانگے اور اگر اس کی خبر غیبت والے کو نہ پہنچی تو حق اللہ سے توبہ کرے مگر اس توبہ میں غیبت والے کو بھی شامل کرے۔دوسرے یہ کہ اگر غیبت والا زندہ ہے تو اس سے معافی مانگے اور اگر مرچکا ہے تو اس کے لیے دعائے مغفرت کرے۔تیسرے یہ کہ غیبت والے سے معافی مانگے اگر وہ معاف کردے تو خیر اگر معاف نہ کرے تو اس کے لیے دعاءمغفرت کرے۔مولانا علی قاری نے فرمایا کہ اگر غیبت کی خبر غیبت والے کو پہنچ جاوے تو حق العبد ہوجاتی ہے اگر خبر نہ پہنچے تو حق اللہ رہتی ہے مگر میرے مرشد برحق صدر الافاضل مولانا نعیم الدین صاحب مراد آبادی قدس سرہٗ نے فرمایا کہ غیبت بہرحال حق العبد ہے خواہ اسے خبر پہنچے یا نہ پہنچے جیسے کسی کا مال مار لینا بہرحال حق العبد ہے خواہ مال والے کو خبر پہنچے یا نہ پہنچے کیونکہ غیبت سے غیبت والے کی آبرو ریزی ہوتی ہے اور آبرو بھی مال کی طرح حق العبد ہے اس لیے علماء فرماتے ہیں کہ مردے کی غیبت زندہ کی غیبت سے سخت تر ہے کہ مردے سے معافی نہیں مانگی جاسکتی۔اس میں اختلاف ہے کہ غیبت والے سے معافی مانگے تو اجمالًا مانگے یا تفصیلًا یعنی یہ بتاکر معافی مانگے کہ میں نے تجھے یہ کہا تھا یا صرف یہ کہہ دے کہ میں نے تیری غیبت کی تھی مجھے معاف کردے۔
Flag Counter