| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے ابوسعید و جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ غیبت زنا سے زیادہ سخت ہے ۱؎ لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ غیبت زنا سے سخت کیسے ہے فرمایا کہ کوئی شخص زنا کرتا ہے تو توبہ کرلیتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ وہ توبہ کرتا ہے تو اللہ اسے بخش دیتا ہے اور غیبت والے کی بخشش نہیں ہوتی حتی کہ اس کا صاحب وہ معاف کرے ۲؎
شرح
۱؎ یعنی غیبت ہے تو گناہ صغیرہ اور زنا ہے گناہ کبیرہ مگر شدت اور نتیجہ میں غیبت زنا سے بدتر ہے،یہ نرمی کی وجہ آگے بیان ہورہی ہے۔ ۲؎ خلاصہ یہ ہے کہ اگر چہ زنا گناہ ہے اس کی شرعی سزا بھی بہت سخت ہے مگر ہے حق اللہ جو توبہ سے معاف ہوسکتا ہے،غیبت حق العبد ہے کہ توبہ سے معاف نہیں ہوسکتا جب تک کہ صاحبِ حق معاف نہ کرے، اگر وہ مرگیا تو اس کی معافی کی کوئی صورت ہی نہیں۔حق اللہ کی پہچان یہ ہے کہ وہ بندے کے معاف کرنے سے معاف نہ ہو،حق العبد کی پہچان یہ ہے کہ بندے کے معاف کرنے سے معاف ہوجاوے۔زنا حق اللہ،قتل حق العبد اس لیے قتل کا قصاص ولی مقتول کے معاف کرنے سے معاف ہوجاتا ہے،زنا اگر زانی مزنیہ کے سارے عزیز معاف کردیں اس کی سزا معاف نہیں ہوتی۔