Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
704 - 975
حدیث نمبر 704
روایت ہے ابن عباس سے کہ دو شخصوں نے نماز ظہر یا عصر پڑھی اور وہ دونوں تھے روزہ دار ۱؎ پھر جب نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز پوری فرمائی تو فرمایا کہ اپنے وضو اپنی نمازیں لوٹاؤ  اور اپنے روزوں میں گزر جاؤ (پورےکرلو)اور دوسرے دن ان کی قضا کرو ۲؎ وہ بولے یارسول اللہ کیوں فرمایا تم نے فلاں کی غیبت کی۔
شرح
۱؎ یعنی یہ دونوں روزہ داربھی تھے مدینہ منورہ کی سرزمین میں بھی مسجد نبوی شریف میں بھی اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے انہوں نے نماز بھی پڑھی اتنی خوبیوں کے ساتھ انہوں نے کسی مسلمان کی غیبت بھی کرلی۔

۲؎  قرآن کریم نے غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانا قرار دیا ہے"اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا"۔اور ظاہر ہے گوشت کھانے خون پینے سے روزہ بھی ٹوٹ جاتا ہے نمازبھی۔خلاصہ یہ ہے کہ گناہ نیکیوں کا کمال دور کر دیتے ہیں جیسے نیکیاں اصل گناہوں کا زوال کردیتی ہیں،نیز غیبت کی وجہ سے غیبت کرنے والے کی نیکیاں مغتاب کو دے دی جاتی ہیں اس کا روزہ نماز مغتاب کو دے دیا گیا یہ بغیر روزہ نماز رہ گیا لہذا اسے دوبار ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں کہ غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے نماز پڑھی ہوئی بے کار ہوجاتی ہے ان کی دلیل یہ ہی حدیث ہے۔(مرقات)باقی حضرات فرماتے ہیں کہ اس سے روزہ نماز کا کمال ٹوٹ جاتا ہے بہرحال یہ حکم عالی تنبیہ فرمانے کے لیے ہے۔
Flag Counter