۱؎ یعنی یہ دونوں روزہ داربھی تھے مدینہ منورہ کی سرزمین میں بھی مسجد نبوی شریف میں بھی اور حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے انہوں نے نماز بھی پڑھی اتنی خوبیوں کے ساتھ انہوں نے کسی مسلمان کی غیبت بھی کرلی۔
۲؎ قرآن کریم نے غیبت کو مردہ بھائی کا گوشت کھانا قرار دیا ہے"اَنۡ یَّاۡکُلَ لَحْمَ اَخِیۡہِ مَیۡتًا"۔اور ظاہر ہے گوشت کھانے خون پینے سے روزہ بھی ٹوٹ جاتا ہے نمازبھی۔خلاصہ یہ ہے کہ گناہ نیکیوں کا کمال دور کر دیتے ہیں جیسے نیکیاں اصل گناہوں کا زوال کردیتی ہیں،نیز غیبت کی وجہ سے غیبت کرنے والے کی نیکیاں مغتاب کو دے دی جاتی ہیں اس کا روزہ نماز مغتاب کو دے دیا گیا یہ بغیر روزہ نماز رہ گیا لہذا اسے دوبار ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں کہ غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے نماز پڑھی ہوئی بے کار ہوجاتی ہے ان کی دلیل یہ ہی حدیث ہے۔(مرقات)باقی حضرات فرماتے ہیں کہ اس سے روزہ نماز کا کمال ٹوٹ جاتا ہے بہرحال یہ حکم عالی تنبیہ فرمانے کے لیے ہے۔