Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
703 - 975
حدیث نمبر 703
روایت ہے حضرت عبدالرحمان ابن غنم اور اسماء بنت یزید سے ۱؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ کے بہترین بندے وہ ہیں کہ جب دیکھے جائیں تو اللہ یاد آجائے۲؎  اور اللہ کے بدترین بندے وہ ہیں جو چغلی سے چلیں،دوستوں کے درمیان جدائی ڈالنے والے۳؎ پاک لوگوں میں عیب ڈھونڈنے والے۴؎(احمد،بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ عبدالرحمن غنم اشعری شامی ہیں،جلیل القدر تابعی ہیں،آپ نے حضور انور کا زمانہ پایا مگر زیارت نہ کرسکے، حضرت معاذ ابن جبل کے ساتھ رہے،اسماء بنت یزید ابن سکن صحابیہ ہیں اسی لیے شارحین فرماتے ہیں کہ بہتر یہ تھا کہ حضرت اسماء کا نام شریف پہلے ذکر کیا جاتا۔

۲؎  یعنی ان کے چہروں پر انوار و آثار عبادت ایسے ہوں کہ انہیں دیکھتے ہی رب یاد آجاوے ان کے چہرے آئینہ خدا نما ہوں۔حضور فرماتے ہیں کہ علی کا چہرہ دیکھنا عبادت ہے آپ کو جو دیکھتا تھا کہتا تھا لا الہ الا اللہ کیسا کریم بہادر حلیم جوان ہے۔(مرقات)بعض لوگوں کے پاس بیٹھنے سے قلب جاری ہوجاتا ہے،حضور داتا صاحب کے مزار مقدس پر پہنچ کر دل کی دنیا بدل جاتی ہے،مصری عورتوں نے جمال یوسفی دیکھتے ہی کہا تھا حاشا للہ،  یہ ہے اللہ کی یاد آجانا۔یہاں حضرت شیخ عبدالحق نے فرمایا کہ میں ایک بار مکہ معظمہ کے بازار میں سر نیچا کیے جارہا تھاکہ اچانک ایک شخص پر نظر پڑی میرے منہ سے فورًا لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریك لہ لہ الملك ولہ  الحمد وھو علی کل شئی قدیر۔(اشعہ)

۳؎ معلوم ہوا کہ فسادونفاق کے لیے چغلی کھانا ممنوع ہے،صلح کرانے کے لیے ایک دوسرے کو اچھی باتیں پہنچانا عبادت ہے۔

۴؎  باغون جمع باغی کی جس کا مادہ بغی ہے بمعنی چاہنا ڈھونڈھنا۔براء جمع ہے بری کی بمعنی دور یعنی جو عیب سے دور ہوں ان میں عیب جوئی کرنے والے۔اپنے عیب ڈھونڈھنا عبادت ہے دوسروں کے عیب ڈھونڈھنا برا ہے۔خیال رہے کہ اللہ تعالٰی کے مقبول بندوں میں عیب جوئی کفر ہے،بعض بدنصیبوں کو نبیوں ولیوں میں عیب جوئی کی عادت ہوتی ہے۔
Flag Counter