| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عبادہ بن صامت سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے نفس کی طرف سے میرے لیے چھ چیزوں کے ضامن بن جاؤ میں تمہارے لیے جنت کا ضامن ہوں ۱؎ جب بات کرو سچ کہو،جب وعدہ کرو تو پورا کرو۲؎ جب امین بنائے جاؤ تو اداکرو۳؎ اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرو۴؎ اپنی نگاہیں نیچے رکھو ۵؎ اپنے ہاتھ روکو ۶؎
شرح
۱؎ یعنی تم چھ عادتیں ڈال لو ان کے خلاف نہ کرو تو میں تمہارے جنتی ہونے کا ضامن ہوتا ہوں تم ضرور جنتی ہو گے بلکہ وہاں کا اعلیٰ درجہ پاؤ گے۔ ۲؎ وعدہ سے مراد جائز وعدہ ہے وعدہ کا پورا کرنا ضروری ہے مسلمان سے وعدہ کرو یا کافر سے عزیز سے وعدہ کرو یا غیر سے استاذ،شیخ،نبی،اللہ تعالٰی سے کیے ہوئے تمام وعدے پورے کرو،ہاں اگر کسی حرام کام کا وعدہ کیا ہے اسے ہرگز پورا نہ کرے حتی کہ حرام کام کی نذر پوری کرنا حرام ہے۔ ۳؎ امانت مال کی ہو یا بات کی یا کسی اور چیز کی ضرور اداکرے مسلمان کی امانت ہو یا کافر کی۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ہجرت کی رات حضرت علی سے فرمایا کہ ان خونخوار کفار کی امانتیں میرے پاس ہیں وہ تم ادا کردینا۔امانت اور غنیمت میں بڑا فرق ہے۔ ۴؎ نہ اس سے حرام کاری کرو نہ خاوند بیوی کے سوا کسی پر ظاہر ہونے دو۔فروج سے مراد مردوعورت کی ستر غلیظ ہے۔ ۵؎ چلو پھرو تو نیچی نگاہ سے،بیٹھو تو نیچی نگاہ سے تاکہ غیرمحرم کے دیکھنے سے بچو یہ حکم مردوعورت دونوں کو ہے،جہاں اوپر دیکھناضروری ہے یا جائز ہے وہاں ضرور دیکھو،عالم،ماں باپ کا چہرہ،چاند وغیرہ ضرور دیکھو یہاں شرم حیاء کا ذکر ہے۔ ۶؎ کہ اپنے ہاتھ سے کسی پر ظلم نہ کرو اس سے ناجائز چیز نہ چھوؤ۔